سینیٹ انتخاب:’الیکشن کمیشن کو سیاست دانوں کی مدد درکار ہے‘

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے کہا ہے کہ پاکستانی سینیٹ کے ارکان کے انتخاب میں ہونے والی مبینہ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لیے خفیہ اداروں سمیت تحقیقاتی اداروں کی بھی مدد لی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو گی کہ ووٹ خریدنے والے بھی ارکان اسمبلی ہیں اور بکنے والے بھی ارکان اسمبلی ہی ہیں۔
سینیٹ کے ارکان کے انتخاب میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے موقع پر پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگیب اور رکن پنجاب اسمبلی عظمی بخاری بدھ کو کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مریم اورنگ زیب اور عظمی بخاری نے کہا کہ پنجاب سے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ہونے والے سینیٹ کے رکن چوہدری سرور نے کہا ہے کہ انھیں حکمراں جماعت کے چھ ارکان نے ووٹ دیا تاہم وہ ان کے نام بتانے سے گریزاں ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انھوں نے چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی کہ چوہدری سرور کو طلب کر کے ان چھ ارکان کے نام پوچھے جائیں جنھوں نے ان کے بقول انھیں ووٹ دیے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں ان کی معاونت چاہتے ہیں اور کمیشن چوہدری سرور کو بھی طلب کرے گا۔
جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے کہا کہ سیاست دانوں کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے بارے میں دیے گئے بیانات ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ووٹ خریدنا اور بیچنا جرم ہے جس کے سدباب کے لیے الیکشن کمیشن کو سیاست دانوں کی مدد درکار ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شاہد گوندل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی جماعت کے سربراہ نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو جلد ہی اس بارے میں رپورٹ عمران خان کو پیش کرے گی۔
ایم کیو ایم کے وکیل نے بھی الیکشن کمیشن کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ کے ارکان کے انتخاب میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے معاملے پر کوئی بھی الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوا۔










