راؤ انوار کی گرفتاری، ’خفیہ ادارے رپورٹس تو دے رہے ہیں لیکن گرفتاری میں پیش رفت نہیں‘

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان نقیب اللہ کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے بارے میں خفیہ اداروں کی جانب سے رپورٹس تو دی جا رہی ہیں لیکن ان کی گرفتاری میں پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ محض رپورٹس کافی نہیں ہیں بلکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نقیب اللہ قتل کے مقدمے کے بارے میں از خود نوٹس کی بدھ کو سماعت کی۔ اس موقع پر سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کی جانب سے راؤ انوار کے بارے میں رپورٹس عدالت میں جمع کروائی گئیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق آئی ایس آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم راؤ انوار کی لوکیشن آخری مرتبہ پنجاب کے علاقے بھیرہ کے قریب معلوم ہوئی تھی اور اس کے بعد ان کی لوکیشن کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
بینچ کے سربراہ نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا آئی ایس آئی ملزم راؤ انوار کی گرفتاری میں تعاون کر رہی ہے جس پر اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے اس معاملے میں تعاون کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ نقیب اللہ کے رشتہ داروں نے ملزم راؤ انوار کی عدم گرفتاری پر خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔
اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سندھ پولیس کے سربراہ سے استفسار کیا کہ کیا راؤ انوار کو کسی جرائم پیشہ گروہ نے پناہ تو نہیں دی جس پر اے ڈی خواجہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نقیب اللہ قتل کے مقدمے میں 24 نامزد ملزمان ہیں جن میں سے 10 کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اس مقدمے کا چالان بھی پیش کر دیا گیا ہے۔
اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں راؤ انوار کا ایک اور خط موصول ہوا ہے تاہم اب یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ خط اصلی ہے یا جعلی۔
انھوں نے کہا کہ اس خط میں راؤ انوار کے تمام بینک اکاونٹس کھولنے کی بات کی گئی ہے۔
عدالت نے سندھ پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ وہ راؤ انوار کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ دیں۔







