نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کی تین روز میں گرفتاری کا حکم

،تصویر کا ذریعہTwitter
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ریاست کو ماورائے عدالت ہلاکتوں کی اجازت نہیں دیں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کا کام جان اور مال کا تحفظ ہے، یہاں پورا نظام کام نہیں کر رہا جبکہ سارا انحصار عدلیہ پر ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سنیچر کو کراچی میں سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود کے قتل کے ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، تحقیقاتی کمیٹی کے رکن سلطان خواجہ، نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان، ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن حاضر ہوئے جبکہ مفرور ایس ایس پی راؤ انوار غیر حاضر رہے۔
خیال رہے کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں ایک مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا تھا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے اس حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ گذشتہ روز عدالت میں جمع کرا دی تھی۔ اس رپورٹ سے قبل ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی نے پشتون جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ یہ مقابلہ جعلی تھا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سلطان خواجہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کی رپورٹ کے مطابق یہ ماورائے عدالت کلنگ ہے، اب ہمیں بندہ چاہیے۔
’آپ کو معلوم ہے نا کہ آپ کو سپریم کورٹ کی سپورٹ حاصل ہے، تین روز میں جے آئی ٹی کے نتائج سامنے آنے چاہیں ورنہ میں خود اس کو تبدیل کردوں گا۔‘
چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی سے سوال کیا ’کہیں ایسا تو نہیں کہ راؤ جہاں گیا ہے وہ آپ کی پہنچ میں نہیں، آپ آزادی سے کام کریں کسی کے دباؤ میں نہ آئیں جو ایماندار افسر ہیں ہم انھیں ناکام نہیں ہونے دیں گے۔‘
نقیب اللہ کے والد محمد خان نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ انھیں انصاف چاہیے، تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے جس پر چیف جسٹس نے انھیں بتایا کہ جوڈیشل کمیشن حل نہیں ہے، جوڈیشل کمیشن کرمنل انکوائری نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں معاملہ چلا گیا تو آپ کو (پولیس) کو مشکلات ہوں گی، انھیں جے آئی ٹی پر اعتماد ہے۔
’ہماری طرف سے نقیب اللہ کے خاندان کو کہیں کہ وہ صبر کریں ان کو انصاف ملے گا۔ یہ بچہ صرف ان کا نہیں ہمارا اور پوری قوم کا تھا۔‘
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران راؤ انوار کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان بھی زیر سماعت آیا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈی جی سول ایوی ایشن کو ہدایت کہ نجی ایئرلائن آپریٹر اور چارٹرڈ طیاروں کے گذشتہ دو روز میں حلفیہ بیان جمع کرائے جائیں کہ کہیں راؤ انوار نے ان کے طیارے میں تو سفر نہیں کیا۔
ڈی جی سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ 15 روز میں نجی جہاز طیارے چلانے والی کمپنیوں میں سے چھ پروازوں نے اڑان بھری ہے جن میں اومنی گروپ کا نجی جہاز بھی شامل ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی توجہ ایک ویڈیو کی جانب کرائی کہ کیا آپ نے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو دیکھی ہے، مائیک پر آئیں اور سب کو بتائیں کہ وہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
آئی جی نے بتایا کہ راؤ انوار کے سر کی قیمت 50 لاکھ رپے مقرر کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں اب اس طرح لوگوں کے سر کی قیمتیں مقرر ہوں گی کیا یہ کلچر معتارف کرایا جائے گا، ہم شہریوں کے حقوق کے محافظ ہیں، یہ ویڈیو 24 گھنٹے سے چل رہی ہے کیا آپ نے کوئی ایکشن لیا؟
خیال رہے کہ کراچی میں اس سے قبل بھی ماورائے عدالت قتل کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سالہ 146 افراد مبینہ طور پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 140 ہلاکتوں کے پولیس مقابلوں میں دعوے کیے گئے ہیں۔








