پشتون مارچ ٹی وی سکرینوں سے اوجھل

پاکستان میں پشتونوں کی تحریک تیزی پکڑ رہی ہے۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد جنم لینے والی اس تحریک کا مقصد پشتونوں کے لیے بنیادی سیاسی اور سماجی حقوق کا حصول ہے۔
اس تحریک کے تحت گذشتہ چند ہفتوں میں ملک کے سب سے پسماندہ صوبے بلوچستان میں پانچ بڑے جلسے منعقد ہوئے ہیں۔
ان جلسوں میں جہاں ہزاروں نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی وہیں ایک اہم بات خواتین کی بھی بڑی تعداد میں شرکت رہی۔
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
بڑی تعداد میں عوامی شرکت کے باوجود پاکستانی میڈیا، چاہے الیکٹرانک ہو یا پرنٹ، اس پشتون لانگ مارچ کی کوریج کرتا نہیں دکھائی دیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تاہم سوشل میڈیا ایک بار پھر ان افراد کی آواز بنا اور مارچ کے شرکا PashtunLongMarch2Quetta# اور PashtunLongMarch# جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرواتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میڈیا بلیک آوٹ کا ٹرینڈ جزوی طور پر اسلام آباد میں منعقد کیے جانے والے پشتون جرگہ میں بھی دیکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس مرتبہ پشتون لانگ مارچ کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر سوشل میڈیا کوریج کو متاثر کرنے کے لیے کچھ اقدامات بھی کیے گئے جیسے کہ قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے جلسے کے دوران موبائل سروس بند کر دی گئی تھی۔
تاہم اس اقدام پر احتجاج کے بعد کوئٹہ میں منعقدہ جلسے میں ایسا نہیں کیا گیا۔
میڈیا کوریج کے معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی اویس توحید نے کہا کہ تنگ نظر میڈیا لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بیٹھ کر یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ پشتونوں میں اور خاص طور پر نوجوانوں میں انقلاب برپا ہے۔
'میڈیا کو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس طرح کے احتجاج کے خلاف ہو گی۔ لیکن ان نوجوانوں کے جذبات لاوے کی مانند ہیں۔ سول سوسائٹی، سول اور ملٹری لیڈرشپ کو چاہیے کہ وہ صورتحال کو سمجھیں۔'








