پاکستان افغان طالبان سے امن مذاکرات میں مدد کرے گا: وزیرِ خارجہ خواجہ آصف

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان نے افغان صدر کا طالبان کو سیاسی طاقت تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان سے براہ راست یا چار فریقی گروپ کے ذریعے امن مذاکرات میں معاونت کے لیے تیار ہے۔
اس چار فریقی گروپ میں امریکہ، چین، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد میں جمعرات کے روز چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ افغان طالبان ایک سیاسی قوت ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ مذاکرات دو سیاسی قوتوں کے درمیان ہوں گے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ پرامن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل افغانستان کے صدر اشرف غنی نے افغان طالبان کو سیاسی طاقت تسلیم کرتے ہوئے انھیں دفتر کھولنے کی پیشکش کی تھی جبکہ افغان طالبان نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آبار میں میڈیا نے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ملکی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا اور اب پاکستان کسی قیمت پر اپنے مفادات کے بدلے امریکی مفادات پورے نہیں کرے گا۔
اُنھوں نے نام لیے بغیر کہا کہ کچھ اداروں نے اپنے مفادات کو قومی مفاد کا نام دے رکھا ہے لیکن اب یہ معاملہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے تاہم اُنھوں نے یقین دہانی کروائی کہ ملک اس صورت حال سے جلد ہی باہر نکل آئے گا۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی تعلقات ان دونوں کشیدہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان 80 کی دہائی اور سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی پسپائی کے نتائج بھگت رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا ایسا ہمسایہ ہے جسے امن پسند نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان اور انڈیا کے مابین مذاکرات کی تلقین ضرور کرے لیکن اس سے پہلے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی میں توازن پیدا کرے۔
اُنھوں نے امریکہ کی جانب سے پاکستان انڈیا مذاکرات شروع کرنے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے امریکہ خود غیر جانبدار بنے کیونکہ اس کا جھکاؤ انڈیا کی طرف ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات میں امریکہ کے ثالت بننے پر کوئی اعتراض نہیں مگر اس سے پہلے امریکہ کو اپنی جانبداری ترک کرنا ہو گی۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکی مفادات پر قومی مفادات قربان نہیں کیے جا سکتے۔








