مریم نواز کی ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی روکنے کی درخواست مسترد

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائی کورٹ نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے گواہان کا بیان ریکارڈ کرواتے وقت ملزمان خود یا ان کے نمائندے وہاں پر موجود ہوں۔
جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے یہ حکم مریم نواز کی درخواست پر دیا جبکہ عدالت نے اسی ریفرنس میں برطانیہ میں مقیم دو گواہان کو پاکستان آ کر بیان ریکارڈ کروانے کی استدعا کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں درخواست گزار مریم نواز کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جس روز ان گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے وہ اس روز التوا کی تاریخ نہیں مانگیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
مریم نواز نے احتساب عدالت کے دو فروری کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں احستاب عدالت کے جج نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں دو گواہان کے بیانات لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ منصفانہ ٹرائیل ہر ملزم کا حق ہے اور عدالت فریقین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان اس ریفرنس کی سماعت کو التوا میں ڈالنے کے لیے ایسے حربے استعمال کر رہے ہیں اور ان کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے کا حکم نیب کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف دائر کیے گئے ضمنی ریفرنس پر دیے۔ اس ضمنی ریفرنس میں دو گواہان برطانوی شہری ہیں اور انھوں نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر پاکستان آ کر اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے معذوری ظاہر کی تھی۔
اس صورت حال میں نیب کے حکام نے احتساب عدالت سے دو گواہان کے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کی اجازت مانگی تھی۔









