شاہ رخ جتوئی مسکرا کر بولے ’سائیں وہ تو بچپنا تھا‘

شاہ رخ جتوئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشاہ رخ جتوئی کو دبئی سے گرفتار کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے کراچی میں قتل ہونے والے شاہ زیب قتل کے مقدمے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اس مقدمے میں ملوث چاروں مجرمان کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے حکم پر پولیس نے کمرہ عدالت میں موجود مجرمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے اپنے حکم میں وزارت داخلہ کو کہا ہے کہ جب تک قتل کے اس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مجرمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے جائیں۔

ان مجرمان میں شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور،مرتضیٰ لاشاری اور نواب سجاد علی تالپور شامل ہیں۔

شاہ زیب قتل کیس کے بارے میں مزید پڑھیے

سپریم کورٹ نے یہ حکم سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سول سوسائٹی کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں پر دیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بعدازاں ان درخواستوں کو از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے شاہ زیب قتل کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کو ختم کر کے اسے سیشن جج کی عدالت میں بھجوا دیا تھا۔ شاہ زیب کے ورثا کی مجرمان کے ساتھ صلح ہونے کی وجہ سے اُنھیں اس مقدمے سے رہا کر دیا تھا۔

اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ان چاروں مجرمان کو موت کی سزا سنائی تھی۔

شاہ زیب
،تصویر کا کیپشنشاہ زیب خان کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف مجرمان کی اپیلوں کی دوبارہ سماعت کے لیے ایک نیا بینچ تشکیل دیں جو دو ماہ میں ان درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے جب مجرمان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ ان کے موکل شاہ رخ جتوئی نے عدالت میں پیشی کے موقع پر وکٹری کا نشان کیوں بنایا تھا تو مجرم نے اپنی سیٹ سے کھڑے ہو کر مسکرا کر کہا کہ ’سائیں وہ تو بچپنا تھا‘۔ تاہم عدالت نے اُنھیں اپنی سیٹ پر بیٹھنے کا حکم دیا۔

پاکستان کے قانون میں قتل کی سزا موت یا عمر قید ہے لیکن اس میں اگر مدعی چاہے تو ملزمان کو معاف بھی کر سکتا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے مقدمات میں صلح کی راستہ موجود نہیں ہے کیونکہ ان دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں ریاست مدعی ہوتی ہے۔