پشاور حملہ: خون، گولیوں کے نشانات اور بکھرے بستر

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور میں محکمۂ زراعت کے تربیتی مرکز کے ہاسٹل پر حملے کے نشانات شاید اتنے گہرے پڑ چکے ہیں جنھیں مٹانے کے لیے طویل عرصہ درکار ہوگا۔ ابھی تو آرمی پبلک سکول پشاور اور باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے نشان بھی تازہ ہیں۔
یونیورسٹی روڈ پر محمکۂ زراعت کے تربیتی مرکز میں داخل ہوں تو سامنے سر سبز میدان ہیں اور دائیں جانب عمارت ہے جہاں سامنے اب گولیوں کے نشان نظر آ رہے ہیں۔ عمارت کی جانب جاتے وقت سڑک پر گولیوں کے خول جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے۔
عمارت کے اندر بائیں جانب کے دروازے سے داخل ہوئے تو دروازے کے ساتھ دائیں جانب دو جگہ پر خون پڑا تھا جو تازہ لگ رہا تھا اور اس کی مقدار کہیں زیادہ تھی۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ یہاں دو حملہ آور مارے گئے تھے۔
اس عمارت میں داخل ہونے سے پہلے بھی خون پڑا تھا جس پر مٹی زیادہ پڑ چکی تھی۔ اس عمارت کے دائیں جانب کمرے کا دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور شیشے بکھے پڑے تھے۔ کمرے میں کمپیوٹر پڑے تھے جہاں فائرنگ کی گئی تھی لیکن اس کمرے میں خون کے نشان کہیں نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بائیں جانب برآمدے میں ہاسٹل کے کمرے تھے۔ پہلے کمرے میں دیوار پر فائرنگ کے نشانات تھے اور دیوار کے ساتھ بستر پر خون پڑا تھا جیسے کسی پر وہیں فائر کیا گیا ہو۔ اس کمرے میں چار سے چھ بستر زمین پر پڑے تھے یہاں کوئی چارپائیاں یا پلنگ نہیں تھے۔
اس برآمدے میں دوسرے کمرے کا دروازہ بھی ٹوٹا ہوا تھا فائرنگ کے نشان تھے لیکن کوئی خون نظر نہیں آیا۔ تیسرے کمرے میں گولیوں اور ایک دھماکے کے آثار واضح تھے بستر بھی کچھ کچھ جلے ہوئے تھے۔
اس کمرے میں رہنے والے طلبا نے بتایا کہ انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی تو پہلے کمرے کے اندر چلے گئے لیکن دوسرے لمحے انھوں نے وہاں سے فرار اختیار کیا اور بھاگ گئے۔ بھاگتے وقت ایک طالب علم کو گولی لگی جسے وہ ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا تھا واپس آئے تو معلوم ہوا کے کچھ ساتھیوں کو گولیاں لگی ہیں اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حملہ آوروں کے خلاف آپریشن میں خیبر پختونخوا پولیس زیادہ متحرک نظر آئی۔ ایک طالب علم صالح محمد نے بتایا کہ انھوں نے ہی پہلے پولیس کو فون کیا اور پھر چند لمحوں بعد پولیس پہنچ گئی تھی۔ صالح محمد کے کپڑے خون سے لت پت تھے شاید اس نے اس کارروائی کے دوران اپنے زخمی ساتھیوں کی مدد کی تھی کیونکہ وہ خود زخمی تو نہیں تھے لیکن خوفزدہ ضرور نظر آ رہے تھے۔

اس آپریشن میں پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن سجاد خان نمایاں نظر آئے کیونکہ انھیں صبح جب اطلاع ملی تو وہ رات کو سادہ ٹراوزر اور شرٹ پہلے ہوئے تھے اور اسی لباس میں بلٹ پروف جیکٹ پہن کر حملہ آوروں کے خلاف کارروائی میں حصہ لیا۔ اسی طرح قریبی تھانوں کے انسپکٹرز نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
جس وقت یہ کارروائی شروع ہوئی اس وقت نجی چینل 24 نیوز کے رپورٹر رحم خان یوسفزئی موقع پر پہنچ گئے تھے انھیں ٹانگ میں ایک گولی لگی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گولی کہاں سے آئی۔
آپریشن کے دوران دیگر صحافیوں کو اس عمارت سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی رہی جہاں سے صرف یہ نظر آتا رہا کہ ایمبولینسز اور سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں آ اور جا رہی ہیں۔











