سپریم کورٹ: ’ملک کی بنیادیں سازش کے تحت کھوکھلی کی جا رہی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی بنیادیں ایک سازش کے تحت کھوکھلی کی جا رہی ہیں اور خفیہ ادارے ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ’یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت اور فوج الگ الگ ہیں جبکہ فوج حکومت کا حصہ ہے اور دونوں غریب عوام کے پیسے سے پلتے ہیں۔‘
تاہم عدالت نے دھرنے سے متعلق آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹس کو مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ نے رپورٹس کو مسترد کرنے کے بارے میں کہا کہ خفیہ اداروں کی طرف سے ابھی تک اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ دھرنا دینے والوں کے پاس ڈنڈے اور آنسو گیس کے شیل چلانے والی بندوقیں کیسے پہنچیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ان رپورٹس میں دھرنے کے دوران ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ہمیں جامع تفصیلات فراہم نہ کرنے سے سوالات اٹھیں گے کہ خفیہ اداروں پر اتنا پیسہ کیوں خرچ کیا جا رہا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس ازحود نوٹس کی سماعت کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آئی ایس آئی اور آئی بی کی سربمہر رپورٹس عدالت میں پیش کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماعت کے موقع پر آئی ایس آئی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
ان کی جگہ وزارت دفاع کا ایک نمائندہ کمرہ عدالت میں موجود تھا اور اُنھوں نے بتایا کہ عدالتی فیصلے میں یہ نہیں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کا سینئر نمائندہ حاضر ہو گا۔
وزارت دفاع کے اہلکار نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ وہ آئی ایس آئی کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ’ ملکی ایجنسیاں کہاں ہیں، آئی ایس آئی اور آئی بی کے دفاتر ہر جگہ پر موجود ہوتے ہیں اور اُنھیں بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ان مظاہرین کو ڈنڈے اور دیگر سامان کس نے فراہم کیا‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے دھرنا ختم کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’حکومت سے فوج الگ نہیں ہے اس لیے اسے بدنام نہ کیا جائے‘۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نظریے پر ہی چلے گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ کون سا دین ہے جو نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت دیتا ہے‘۔
اُنھوں نے کہا کہ اب تو معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ جو جتنی تباہی کرے گا اتنے ہی اس کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں دھرنے اور آپریشن کے بارے میں مزید پڑھیے
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے حکام نے اس دھرنے سے متعلق ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کی ناکامی کی چند وجوہات میں سے ایک وجہ پولیس افسران میں رابطوں کا فقدان اور پولیس اہلکاروں کی تھکان بھی ہے کیونکہ پولیس اہلکار گذشتہ 20 روز سے دھرنے کے اردگرد اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جب دھرنا دینے والوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تو دھرنے کی قیادت کی طرف سے لاؤڈ سپیکر پر پولیس اہلکاروں کے مذہبی جذبات ابھارنے کے لیے بھی تقاریر کی گئیں جو کہ دھرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کی ایک وجہ تھی۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کی وجہ سے پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے اس لیے اعلیٰ حکام کے کہنے پر مظاہرین کے خلاف کارروائی روک دی گئی اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات شروع کیے جائیں۔
سپریم کورٹ نے اس از خود نوٹس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔











