حافظ سعید: نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد رہائی کی سفارش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان کے شہر لاہور میں بدھ کے روز ایک نظر ثانی بورڈ نے مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کی حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کی رہائی کے سفارش کر دی ہے۔
بورڈ کے اس فیصلے سے تقریباٌ دس ماہ سے لاہور میں نظر بند جماعت الدعوۃ کے امیر کی رہائی ممکن ہو پائے گی۔
جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں تین رکنی ریویو بورڈ نے سماعت کے دوران سرکاری وکلا کے دلائل سننے کے بعد حافظ سعید کے خلاف حکومت کی جانب سے واضح ثبوت فراہم نہ کیے جانے کی بنیاد پر ان کی نظر بندی کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیے
یاد رہے کہ حافظ سعید کی نظر بندی میں گذشتہ ماہ کی جانے والی ایک ماہ کی توسیع 23 نومبر کو ختم ہو جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے دستاویزی ثبوت حافظ سعید کو نظر بند رکھنے کے لیے ناکافی تھے۔
’حافظ سعید کو نظر بند رکھنے کا کوئی جواز ہی موجود نہیں تھا۔ حکومت کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ ان کے خلاف ثبوت لے کر آئیں۔ وہ اس میں ناکام ہوئے ہیں تو ریویو بورڈ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ حافظ سعید کی نظر بندی کی مدت میں توسیع نہ کی جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد حافظ سعید کو رہا کر دیا جائے گا۔ ایم پی او کے تحت اگر نظر بندی میں توسیع نہ ہو تو نظر بندی ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ حافظ سعید کی رہائی سے نقضِ امن کا خدشہ ہو سکتا ہے تاہم وہ اپنے اس موقف کے حق میں ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔
پاکستانی قوانین کے تحت ایم پی او کے تحت نظر بند کیے جانے والے شخص کو مدت ختم ہونے پر نظر ثانی یا ریویو بورڈ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
حافظ سعید کو رواں برس جنوری میں ان کے چار ساتھیوں سمیت وفاقی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کیا گیا تھا جس میں تین ماہ کے بعد تین ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہIUD
تاہم انسدادِ دہشت گردی کے تحت نظر بند رکھے جانے کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کو پنجاب حکومت کی جانب سے ایم پی او یعنی مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت نظر بند کر دیا گیا جس میں دو ماہ اور پھر ایک ایک ماہ کی مزید توسیع کی گئی۔
ایم پی او کے تحت کی جانے والی اس نظر بندی کے خلاف حافظ سعید نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی جس کی اگلی سماعت چھ دسمبر کو ہونا تھی، تاہم ریویو بورڈ کا فیصلہ آنے کے بعد اس کے ضرورت نہیں رہے گی۔
ان کے چار ساتھیوں کو نظر بندی کی مدت ختم ہونے پر پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے۔









