الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری عدالت میں چیلنج

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
ماضی قریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے بابر اعوان کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
اس درخواست میں الیکشن کمیشن اور اکبر ایس بابر کو فریق بنایا گیا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی مخالفت کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
اس درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے کیے گئے اس اقدام سے عمران خان کو ذہنی تکلیف پہنچی ہے اور اُن کے سیاسی مخالفین اُنھیں شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس درخواست میں یہ استدعا کی بھی کی گئی ہے کہ عدالت عالیہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو کالعدم قرار دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 12 اکتوبر کو توہین عدالت کے مقدمے میں بارہا بلانے کے باوجود عمران خان کے پیش نہ ہونے پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد پولیس کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کو گرفتارکرکے 26 اکتوبر کو کمیشن کے سامنے پیش کریں۔
اس سے پہلے پاکستان تحریک اانصاف کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ عمران خان الیکشن کمیشن میں پیش ہونے سے پہلے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ جائیں گے اور اگر عدالت عالیہ نے اُنھیں الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا تو وہ پھر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں درخواست کی سماعت کے دوران عمران خان نے الیکشن کمیشن کا رویہ تعصب پر مبنی قرار دیا تھا۔












