ایف آئی اے نے بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

بی بی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کو قتل کردیا گیا تھا

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کردیا ہے۔

حکومت نے اعلیٰ عدلیہ میں اس مقدمے کی پیروی کے لیے پراسیکیوٹر کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب اس مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل فیصل محمود راجہ کریں گے۔ اس سے پہلے چوہدری اظہر اس مقدمے میں سرکاری وکیل کے طور پر پیش ہوتے رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کو قتل کردیا گیا تھا اور اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے لوگ ملوث تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ میں دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی طرف سے 31 اگست کو سنائے جانے والے فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کے پانچ ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کے فیصلے میں بھی سقم موجود ہیں کیونکہ تفتیش کے دوران عدالت کی طرف سے رہائی پانے والے ان پانچ ملزمان سے نہ صرف اسلحہ برآمد ہوا تھا بلکہ اُنھوں نے اعتراف جرم بھی کیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس افسران جن میں ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد شامل ہیں، کو اس مقدمے میں درج ہونے والی دو دفعات میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ اس مقدمے میں انسداد دہشت ایکٹ کی دفعہ بھی لگائی گئی ہے لیکن اس دفعہ کے تحت کوئی سزا نہیں سنائی گئی۔

ان پولیس اہلکاروں نے بھی عدالتی فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی نے اس مقدمے میں فریق بننی اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 31 اگست کو اپنے فیصلے میں اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان جن میں رفاقت، حسنین گل، اعتزاز شاہ، شیر زمان اور عبدالرشید شامل ہیں، کو عدم ثبوت اور شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔

عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دینے کے علاوہ اُن کی جائیداد کی ضبطگی کے احکامات جاری کیے تھے۔

راولپنڈی کی انتظامیہ نے انسداد دہشت گردی کے محکمے کی رپورٹ کی روشنی میں ان افراد کو خدشہ نقص امن کے تحت 30 روز کے لیے نظربند کردیا تھا جس کی معیاد سنیچر کے روز ختم ہو رہی ہے۔ راولپنڈی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان افراد کی نظربندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کیے جانے کا امکان ہے۔

بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں عدالت سے رہائی پانے والے پانچ افراد نے راولپنڈی کی انتظامیہ کے اس اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے جس پر عدالت نے متعقلہ حکام سے چار اکتوبر کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔