ماڈل ٹاؤن کیس: نئے بینچ کی تشکیل، سماعت دو اکتوبر سے

،تصویر کا ذریعہAFP
لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو عام کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب کی اپیل پر عوامی تحریک کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار حنا سعید کے مطابق پیر کی دوپہر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں نیا تین رکنی فل بینچ بنایا گیا جس نے حکومتی درخواستوں پر ابتدائی سماعت کی۔
یاد رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پنجاب پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے رپورٹ عام کرنے سے روکنے کے لیے عدالت میں ایک حکم امتناعی کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ آج ہونے والی کارروائی میں پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکم امتناعی جاری کر دیں۔
لیکن عوامی تحریک کے وکلا کی اس یقین دہانی کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک وہ وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر افراد پر توہین عدالت کی درخواست کی پیروی نہیں کریں گے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ حکم امتناعی کی فوری ضرورت نہیں۔
یاد رہے کہ 21 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام کرنے کی عوامی تحریک کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکریٹری ہوم کو جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت نے اپیل دائر کرتے ہوئے حکم امتناعی کی درخواست بھی لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی۔
پنجاب حکومت کا موقف تھا کہ سنگل بینچ نے یہ فیصلہ ان کے تحریری جواب کے بغیر ہی جاری کر دیا اور رپورٹعام نہ کرنے پر پنجاب حکومت کے خلاف پہلے ہی ایک توہین عدالت کی در خواست دائر ہو چکی ہے۔
حکومت کے وکیل نے استدعا کی کہ اپیل پر فیصلے تک سنگل بینچ کا حکم معطل کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عدالت نے کہا کہ اپیل میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں، اس لیے دو اکتوبر سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی۔
حکومتی اپیل پر لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان عوامی تحريک کو نوٹس جاری کر دیے۔
لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمے داروں کے تعین کے لیے 28 اگست 2014 کو لارجر بنچ بنانے کا حکم دیا تھا۔
26 اگست کو لاہور ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس میں پنجاب پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں ہلاکتوں کے سلسلے میں وزیر اعظم، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت حکومت کے 21 اراکین کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیا جائے۔
واضح رہے کہ 17 جون کو پولیس نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ کےسامنے سے بیئریر ہٹانے کے لیے جو کارروائی کی تھی اس میں بیشتر زخمیوں اور ہلاک شدگان کو براہ راست گولیاں لگی تھیں۔
ابتدا میں پولیس نے ان ہلاکتوں کا مقدمہ پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج کر لیا تھا اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کی جانب سے دی گئی درخواست پر نئی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس سے قبل 21 جون کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے کہنے پر صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔









