لاہور میں پتھراؤ، ہنگامہ اور ہلاکتیں

منہاج القرآن کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید تصادم

 لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے۔
،تصویر کا کیپشن لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جناح ہپستال ذرائع کا کہنا تھا کہ 50 سے زائد افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جناح ہپستال ذرائع کا کہنا تھا کہ 50 سے زائد افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ’عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔ میں طاہر القادری سے کارکنان کی ہلاکتوں پر افسوس کرتا ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنوزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ’عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔ میں طاہر القادری سے کارکنان کی ہلاکتوں پر افسوس کرتا ہوں۔‘
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انھیں ’عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔ میں طاہر القادری سے کارکنان کی ہلاکتوں پر افسوس کرتا ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنوزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انھیں ’عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔ میں طاہر القادری سے کارکنان کی ہلاکتوں پر افسوس کرتا ہوں۔‘
پولیس اور منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے منہاج القرآن سیکریٹیریٹ اور طاہر القادری کے گھر کے ارد گرد لگی حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔
،تصویر کا کیپشنپولیس اور منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے منہاج القرآن سیکریٹیریٹ اور طاہر القادری کے گھر کے ارد گرد لگی حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔
منہاج القرآن یونیورسٹی کے طلبہ اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے مزاحمت کی اور پتھراؤ کر کے پولیس کو بھگا دیا۔
،تصویر کا کیپشنمنہاج القرآن یونیورسٹی کے طلبہ اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے مزاحمت کی اور پتھراؤ کر کے پولیس کو بھگا دیا۔
پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جبکہ بکتر بند گاڑیوں کا استعمال بھی کیا گیا، لیکن اس کے باوجود پولیس صبح تک بیریئر ہٹانے میں ناکام رہی۔
،تصویر کا کیپشنپولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جبکہ بکتر بند گاڑیوں کا استعمال بھی کیا گیا، لیکن اس کے باوجود پولیس صبح تک بیریئر ہٹانے میں ناکام رہی۔