دنیا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے: جنرل باجوہ

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دنیا سے کہا ہے کہ پاکستان کی بجائے وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ اقدامات کرے۔
انھوں نے بدھ کو راولپنڈی میں یومِ دفاع کے موقعے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 'عالمی طاقتیں اگر اس کام میں ہمارا ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتیں تو ہمیں اپنی ناکامیاں کا ذمہ دار بھی نہ ٹھہرائیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'بےبہا قربانیوں، اور دو دہائیوں پر محیط جنگ کے باوجود آج ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے عفریت کا بلاتفریق مقابلہ نہیں کیا۔ اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی ملک نے کچھ نہیں کیا کیوں کہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان ہی کا کمال ہے۔ اب میں کہتا ہوں، now the world must do more'
جنرل باجوہ نے کہا کہ 'امریکہ سے تعلقات کے بارے میں قوم کے جذبات واضح ہیں۔ ہم امداد نہیں عزت اور اعتماد چاہتے ہیں۔ ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہم امریکہ اور نیٹو کے ہر اس عمل کی حمایت کریں گے جس سے خطے میں بالعموم اور افغانستان میں بالخصوص امن کی راہ ہموار ہو، تاہم ہمارے سکیورٹی خدشات کو بھی ایڈریس کرنا ہو گا۔'
جنرل باجوہ نے یہ باتیں اس ماحول میں کی ہیں جب امریکہ اور پاکستان کی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ دو ہفتے قبل پاکستان نے قائم مقام امریکی نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان ایلس ویلز کا دورۂ پاکستان ملتوی کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی افغان پالیسی جاری کرتے ایک تقریر میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کچھ ایسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جو افغانستان میں امریکی اور افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے چند روز بعد افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان سے کام کر رہی ہے۔
جنرل باجوہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ 'سپر پاورز کی شروع کردہ جنگوں کی قیمت ہم نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور اقتصادی نقصان کی صورت میں ادا کی ہے۔ ہم افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے۔ ہم افغان دھڑوں کے درمیان جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ تاہم یہ ضرور کر سکتے ہیں ۔۔۔ کہ اپنی سرحد کی حفاظت کریں۔ اس سلسلے میں ہم سرحد پر 26سو کلومیٹر طویل باڑھ اور نو سو سے زیادہ پوسٹیں اور قلعے تعمیر کر رہے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنی سرحد کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور دوسروں سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ جن دہشت گردوں نے مغربی سرحد کے پار پناہ لے رکھی ہے ان کے خلاف جلد اور موثر اقدام ہوں گے۔'









