امریکی سفارت کار کا دورہ پاکستان ملتوی، نئی تاریخ کا اعلان ’باہمی رضامندی‘ کے بعد ہو گا

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قائم مقام امریکی نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان ایلس ویلز کا 28 اگست سے شروع ہونے والا دورہ پاکستانی حکومت کی درخواست کے بعد ملتوی کر دیا گیا ہے۔
دورے کی نئی تاریخ کا تعین ’باہمی رضامندی‘ کے بعد ہو گا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ ایلس ویلز 28 اگست سے جنوبی ایشیا کا دورہ کریں گی جہاں وہ اسلام آباد، ڈھاکہ اور کولمبو میں مختلف فرائض سر انجام دیں گی۔
ایلس ویلز کا اگست کے مہینے میں پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہوتا۔ اس ماہ کے اوائل میں پاکستان کے دورے میں ایلس ویلز نے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حال ہی میں جنوبی ایشیائی خطے کے بارے میں خطاب کے بعد یہ کسی سینیئر امریکی اہلکار کا پہلا دورہ ہوتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'افغان طالبان کی قیادت پاکستان سے کام کر رہی ہے‘
دورے کی یہ منسوخی ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب گذشتہ روز افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان سے کام کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے افغان ٹیلی ویژن چینل طلوع کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کوئٹہ اور پشاور میں موجود افغان قیادت کے خلاف کارروائی کرے، اور اس بارے میں پاکستان سے امریکہ کی خفیہ بات چیت جاری ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ ہفتے نئی افغان پالیسی جاری ہونے کے بعد سے جنرل نکلسن نے افغان میڈیا کو کئی انٹرویو دیے ہیں جس میں انھوں نے اس کے خدوخال واضح کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کچھ ایسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جو افغانستان میں امریکی اور افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ کوئٹہ اور پشاور میں 'طالبان شوریٰ' موجود ہیں، اور ہم نے گذشتہ برس طالبان کے سربراہ ملا منصور کو پاکستان کی حدود کے اندر ہلاک کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم پناہ گاہوں کا مسئلہ سنگین ہے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔









