’جائے وقوعہ دھو دیں گے تو ثبوت کیسے ملیں گے‘

،تصویر کا ذریعہMagnum Photos
- مصنف, عادل شاہ زیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
لندن میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی واجد شمس الحسن بینظیر کی پاکستان واپسی سے قبل ان کے سکیورٹی خدشات اور پھر ان خدشات پر انھیں دی گئی یقین دہانیوں کے عینی شاہد ہیں۔
وہ بینظیر بھٹو کی اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس سے اس معاملے پر ہونے والی بات چیت کے بھی عینی شاہد ہیں۔
بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اکثر آ کر لندن میں ان سے ملاقاتیں کر تے تھے۔
'وہ چین سموکر تھے، میں بھی کثرت سے سگار پیتا ہوں، اسی طرح کی ایک ملاقات میں میں نے ان سے بے نظیر بھٹو کے قتل کیس پر ان کی رائے جاننا چاہی، تو انھوں نے بڑے افسوس سے کہا کہ دیکھیں افسوس ناک بات یہ ہے کہ آپ کیسے کسی کو پکڑ سکتے ہیں جب آپ سارے ثبوت ضائع کر دیں؟'
واجد شمس الحسن کے بقول جنرل کیانی نے انھیں پرویز مشرف پر راولپنڈی می ہی ہونے والے قاتلانہ حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'سٹینڈرڈ پروسیجر یہ ہے کہ آپ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیتے ہیں، تو بینظیر کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوا، جنرل مشرف پر حملہ کرنے والے ملزمان کو جائے حادثہ سے ملنے والی ایک موبائل سم کے ذریعے ہی پکڑا گیا تھا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سوال پر کہ کیا جنرل کیانی کے بقول اس وقت مجرمانہ غفلت ہوئی تھی؟ اس سوال کے جواب میں سابق ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ 'جنرل کیانی نے یہ کہا تھا کہ جب جائے وقوعہ کو صاف کر دیں تو آپ کو ثبوت کہاں سے ملیں گے؟'

،تصویر کا ذریعہAFP
پیپلز پارٹی ایک طرف تو شروع دن سے پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کے مقدمے میں شریک جرم قرار دیتی رہی ہے لیکن دوسری طرف پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے ناکام رہی ہے۔ پھر آصف علی زرداری نے بھی کیوں پرویز مشرف کو جانے دیا؟
اس سوال کے جواب میں واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ دیکھیں اب تو یہ بات بھی سامنے آ گئی ہے کہ بھٹو نے جنرل یحییٰ کو امریکہ کی درخواست پر ہی چھوڑ دیا تھا۔
تو کیا اس کا مطلب یہ کہ زرداری صاحب نے کسی کے کہنے پر پرویز مشرف کو جانے دیا؟ اس کے جواب میں واجد شمس الحسن نے اشارتًا کہا کہ دباؤ تھا لیکن کس کا تھا یہ نہیں بتایا۔
ُان کے بقول 'دیکھیں میں نہیں بتا سکتا کہ یہ درخواست ان سے کس نے کی تھی۔'









