چار ایجنسیوں کی آبادی 50 لاکھ سے زیادہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں ہونے والی حالیہ مردم شماری کے نتائج پر مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اور بعض جماعتوں نے نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بھی مردم شماری نتائج پر کئی قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق فاٹا کے سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ فرنٹیئر (نیم خودمختار) ریجنز کی کل آبادی 50 لاکھ کے لک بھگ بتائی گئی ہے۔ ان میں ساڑھے 25 لاکھ آبادی مردوں اور 24 لاکھ کے لک بھگ خواتین پر مشتمل ہے۔ فاٹا میں آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح دو اعشاریہ اکتالیس ظاہر کیا گیا ہے جو ملک کی مجموعی اضافے سے زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں حالیہ مردم شماری ایسے وقت کی گئی جب بالخصوص قبائلی علاقے جنگ کی کیفیت سے دوچار ہیں اور ان علاقوں سے بیشتر افراد بے گھر ہوکر دیگر علاقوں میں سکونت اختیار کرنے کی تلاش میں ہیں۔
ممتاز قانون دان اور فاٹا سے سابق رکن قومی اسمبلی لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ فاٹا کے چار ایجنسیوں کی کل آبادی 50 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے اور ایسے میں باقی ماندہ تین ایجنسیوں اور چھ ایف آر ریجنز کی آبادی کہاں گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ شماریات اور پولیٹکل انتظامیہ نے دفاتر میں بیٹھ کر فاٹا کی مردم شماری کرائی اور قبائلی مشران کو بلا کر ان سے اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے۔ لطیف آفریدی کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے وقت صرف تین تحصیلوں سے تین دنوں میں تقریباً 11 لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی تھی حالانکہ دیگر علاقوں کے لوگ وہاں موجود تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ فاٹا کی کل آبادی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بنتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی قبائلی علاقوں کے عوام کا مذاق اڑایا گیا اور ان کو کم شمار کیا گیا تاکہ ان کے وسائل پر قبضہ کیا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبائلی علاقوں میں 2004 کے بعد سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کی کاروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک رہنے والے ان کارروائیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد نے بے گھر ہوکر پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طورپر دیگر مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان بے گھر افراد میں اکثریت امن کے قیام کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں تاہم ان میں ایک بڑی تعداد اب بھی ایسے افراد پر مشتمل ہے جو اب مستقل طورپر شہری علاقوں میں مقیم ہوچکے ہیں۔
قبائلی علاقوں میں طلبہ کی نمائندہ تنظیم فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ فاٹا کی آبادی کو کم ظاہر کرنا کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں کیونکہ ملک میں تمام وسائل آبادی کے حساب سے دیے جاتے ہیں لہٰذا آنے والے دنوں میں ان علاقوں کے وسائل میں کمی مسائل کو جنم دے گا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت نے فاٹا میں اصلاحات کا عمل دانستہ طورپر تاخیر کا شکار کیا تاکہ ان پسماندہ علاقوں کے وسائل کو کم سے کم ظاہر کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے بچوں کی تعلیم کی خاطر فاٹا سے نقل مکانی کی ہے ان کا دوسرا مکان اب بھی فاٹا میں موجود ہے لیکن ایسے کئی خاندانوں کو قبائلی علاقوں میں شمار نہیں کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ادھر قبائلی علاقوں سے منتخب اراکین پارلمینٹ نے بھی ادارہ شماریات کی طرف سے فاٹا کی آبادی سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار کو مسترد کیا ہے۔
کرم ایجنسی سے قومی اسمبلی کے رکن ساجد حسین طوری کا کہنا ہے کہ مردم شماری میں بدقسمتی سے بے گھر افراد کو شمار نہیں کیا گیا ہے حالانکہ اس ضمن میں ادارہ شماریات کو بار بار مطلع کیا گیا تھا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آپریشنوں کی وجہ سے فاٹا سے تقریباً 30 لاکھ افراد بدستور بے گھر ہیں جنہیں مردم شماری میں شمار نہیں کیا گیا ہے۔









