جنرل باجوہ نے بچوں کو چپ کرا دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 70 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں منعقدہ مرکزی تقریب کے دوران جب صدر مملکت ممنون حسین تقریب سے خطاب کر رہے تھے تو ہال میں موجود بچوں کی جانب سے قومی پرچم لہرانے اور ہلکی ہلکی سرگوشیوں سے شور پیدا ہوا جس پر وہاں موجود آرمی چیف جنرل باجوہ نے سکیورٹی اہلکار کو بلا کر ہدایت کی کہ بچوں کو خاموش کرایا جائے۔
اس اہلکار نے احکامات لے کر ہال ہی میں بیٹھے ایک اور اہلکار کو دیے جس نے کھڑے ہو کر ہال کے اوپری حصے میں بیٹھے بچوں کو ہاتھ ہلا کر اور پھر منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کی ہدایت کی جس کے نتیجے میں یہ شور آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گیا۔
یوم آزادی کے سلسلے میں پرچم کشائی کی مرکزی تقریب 17 برس بعد پارلیمان کے احاطے میں منعقد ہونا تھی لیکن خراب موسم کی وجہ سے ایک بار پھر اسے کنونشن سینٹر میں منتقل کرنا پڑا۔
تقریب میں شرکت کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب آئے تو سیدھے اپنی نشست پر بیٹھ گئے جبکہ صدر مملکت، سینیٹ کے چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی نے بّری فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف سمیت پہلی نشستوں پر بیٹھے تمام لوگوں سے مصافحہ کیا۔
تقریب کے آغاز پر قرآن کی جس آیت کی تلاوت کی گئی اس کا ترجمہ تھا کہ ’اللہ کی ہدایت کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقے فرقے نہ ہو جانا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
صدر ممنون حسین نے بھی قرآن کی اسی آیت کے حوالے سے اپنی تقریر میں کہا کہ ’سب اختلافات بھلا کر ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے متحد ہو جائیں۔‘
تقریب میں چین کے ڈپٹی وزیراعظم خطاب کر کے جب واپس آئے تو سب نے کھڑے ہو ہو کر تالیاں بجائیں جب کہ صدر ممنون حسین جب اپنی تقریر ختم کر کے جب واپس آنے لگے تو ابتدائی دو نشستوں پر بیٹھے چند سول اور فوجی اہلکار وں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا جبکہ جنرل باجوہ اور ایئر فورس کے چیف سمیت دیگر سول و فوجی قیادت اپنی اپنی نشستوں پر ہی براجمان رہی۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور صدر مملکت فوری طور پر ہی روانہ ہو گئے جب کہ جنرل باجوہ تقریب میں ملی نغمے گانے والے بچوں کے پاس گئے اور کافی دیر تک ان کے ساتھ رکے اور تصاویر بنواتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی تھوڑی دیر کے لیے تو وہیں موجود رہے تاہم وہ بھی فوج کے سربراہ کے ساتھ کھڑے ہو کر بچوں کے ساتھ تصاویر بنوانے کے بعد ہال سے چلے گئے جبکہ جنرل باجوہ ان سے کچھ دیر کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔









