پاکستانی فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنبھال لی

جنرل قمر باجوہ

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنجنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے بری فوج کے 16ویں سربراہ ہیں

پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر برّی فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔

کمان کی تبدیلی کی تقریب منگل کی صبح راولپنڈی میں واقع بری فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی جس میں جنرل راحیل شریف نے نئے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو کمانڈ سٹک سونپی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل راحیل شریف کی جگہ لی ہے جو تین سال تک پاکستان کے بری فوج کے سربراہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے بری فوج کے 16ویں سربراہ ہیں اور بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے چوتھے آرمی چیف ہیں۔

جنرل قمر باجوہ

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنسبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف کو الوداعی گارڈ آف آرنر پیش کیا گیا

تقریب میں بّری فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل راحیل شریف اور نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدار پر فاتحہ خوانی اور سلامی پیش کی اور سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف کو الوداعی گارڈ آف آرنر بھی پیش کیا گیا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریب میں وفاقی وزرا، سابق سروسز چیفس، اعلیٰ فوجی اور سول حکام اور دوسری ممتاز شخصیات شریک تھیں۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے نئے چیئرمین جنرل زبیر محمود حیات اور سبکدوش چیئرمین جنرل راشد محمود بھی تقریب میں شرکت کی۔

جنرل باجوہ پاکستان کی سب سے بڑی 10 کور کی ناصرف کمانڈ کر چکے ہیں بلکہ اپنے کیرئیر میں دو مرتبہ اس کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کوئٹہ میں انفینٹری سکول کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔

وہ اقوام متحدہ کی امن مشن کے تحت کانگو میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

راحیل شریف

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبّری فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے

اپنے الوداعی خطاب میں جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ 'ہم نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑ کر تاریخ کے دھارے کو موڑا اور اس خطے بالخصوص پاکستان کی عوام کو امن کی ایک نئی امید دی۔'

بلوچستان اور کراچی میں امن کا قیام، آپریشن ضرب عضب ہو یا ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے سی پیک پراجیکٹ ہر میدان میں کامیابی کے ثمرات واضح نظر آرہے ہیں۔'

اس موقع پر انھوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سول قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے تعان ان کی کوششوں میں شامل رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں سکیورٹی کے حالات پیچیدہ ہیں اور ملک کو درپیش چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔

'بیرونی خطرات کو بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے اندرونی کمزوریوں خصوصا جرائم، بدعنوانی اور انتہاپسندی کا جڑ سے خاتما کرنا ہوگا اس کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد لازم ہے۔'

اس موقع پر انھوں نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال اور سرحدی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'ہماری تحمل کی پالیسی کو کسی قسم کی کمزوری سمجھنا خود اس کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے جس کے لیے عالمی توجہ ضروری ہے۔'

جنرل زبیر محمود حیات

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجنرل زبیر محمود حیات سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں

اس سے پہلے جنرل زبیر محمود حیات نے پیر کے روز ایک باضابطہ تقریب کے دوران بطور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ سنبھال لیا

پیر کے روز چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب راولپنڈی ہیڈکوارٹر میں ہوئی۔

تقریب میں سبکدوش ہونے والے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے نئے نامزد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کو کمان سونپی۔

تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سربراہوں اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ سنیچر کو وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر پاکستان ممنون حسین نے وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی تھی۔

جنرل زبیر محمود حیات 17ویں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ہیں۔