پاناما لیکس: ’رپورٹ کی جلد نمبر چار شریف خاندان کے لیے خطرناک‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاناما لیکس سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں شریف خاندان کے بارے میں بڑی سنگین دستاویز لف کی گئی ہیں جنھیں کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس کی ملکیت کے بارے میں ابھی شواہد پیش نہیں کیے گئے اور اگر انھیں پیش کیا گیا تو پھر پوچھا جاسکتا ہے کہ ان کو خریدنے کے لیے رقم قطر سے گئی ہے یا پھر سعودی عرب سے۔
نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ جے آئی ٹی کے کسی بھی حصے سے صرفِ نظر نہیں کرسکتے اور عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دے گی۔
بدھ کو ہونے والی سماعت میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر لندن کے فلیٹس میاں شریف کی ملکیت تھے تو اس کا حصہ وزیر اعظم نواز شریف کو بھی ملا ہوگا۔ جس پر وزیر اعظنم کے وکیل نے کہا کہ اُن کے موکل نے تو قطر میں ہونے والی سرمایہ کاری سے بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔
اُنھوں نے نیب کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص اُن جائیدادوں کے بارے میں جواب دہ نہیں ہے جو اُن کے بچوں کے نام پر ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہل سٹیل کے کاروبار میں نواز شریف کو 88 فیصد منافع ملا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ صرف 20 فیصد منافع ملا ہے اور گذشتہ چھ سال کے دوران اُنھیں ایک ارب17 کروڑ روپے منافعے کی مد میں ملے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہل سٹیل کا ایشو ابھی زندہ ہے اور اس کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
سماعت کے دوران حدیبیہ پیرز ملز کے مقدمے کا معاملہ سامنے آیا تو جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس مقدمے میں دیے گئے اپنے بیان حلفی سے انکاری ہیں تو اُنھیں دی جانے والی معافی بھی غیر موثر ہوگی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں اسحاق ڈار بطور وعدہ معاف گواہ کے طور پر پیش ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
واضح رہے کہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس مقدمے میں بیان حلفی اُنھوں نے اپنی مرضی سے تحریر نہیں کیا تھا بلکہ زبردستی لکھوایا گیا تھا۔
اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے کہا کہ حدیبہ پیپز ملز کا مقدمہ اب ختم ہوچکا ہے اور قانون کی نظر میں بند کیے گئے مقدمے کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔
اُنھوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے اُن کے موکل کے ساتھ تعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار سے آمدنی کے ذرائع پوچھے تھے جس کا اُنھوں نے جواب نہیں دیا بلکہ استحقاق کے پیچھے چھپتے رہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سنہ 1994 میں اسحاق ڈار کے اثاثے 90 لاکھ روپے تھے جو اب بڑھ کر 85 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں جو کہ جے آئی ٹی کے ارکان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اسحاق ڈار کے ذرائع آمدن ایک معمہ ہے جو ابھی تک حل نہیں ہوا۔
عدالت نے اسحاق ڈار کے وکیل کو جمعرات کو ٹیکس گوشواروں سے متعلق تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیم نمبر دس کو عام کرنے پر اصرار نہیں کیا جو باہمی قانونی معاونت سے متعلق ہے۔
وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ جمعرات کو اپنے دلائل دیں گے۔










