شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا کہ وزیراعظم کی نااہلی بنتی ہے یا نہیں: سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
پاناما کیس پر عمل درآمد سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنی ہو گی اور یہ فیصلہ مدعاالیہان کو کرنا ہے کہ اس بات کے ثبوت ہمیں دیں گے یا ٹرائل کورٹ میں دیں گے۔
منگل کو جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد ایک دن پہلے پیر کو اس کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تھی۔
منگل کو سماعت کے دوران بینچ کی جانب سے کہا گیا کہ شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنی ہو گی جس میں یہ فیصلہ مدعاالیہان کو کرنا ہے کہ اس بات کے ثبوت ہمیں دیں گے یا ٹرائل کورٹ میں دیں گے۔
خصوصی بینچ نے مزید کہا کہ وہ شواہد دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ وزیراعظم کی نااہلی بنتی ہے یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے آغاز پر شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کو سپریم کورٹ کی جانب سے 20 اپریل کو دیا گیا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ عدالت نے جے آئی ٹی کو کس نوعیت کی تحقیقات سونپی ہیں۔
اس پر بینچ کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے 20 اپریل کو جاری کیا گیا حکمنامہ عبوری تھا۔
خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ عدالت تحقیقات کی سمت متعین کر چکی ہے اور اس نے 13 سوالات کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک ایسا کیس جس کا فیصلہ ہو چکا ہے اسے دوبارہ کھولنے کا حکم نہیں دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی کہ ساتھ لگائی گئی دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں تو غیر تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر عدالت کیسے فیصلہ سنا سکتی ہے۔
اس کے جواب میں بینچ کے سربراہ اعجاز افضل خان نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں اس بارے میں کچھ نہیں ہے لیکن شریف خاندان کے وکیل نے کہا کہ درخواست میں نہ صرف جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کیا گیا ہے بلکہ اس بارے میں اعتراض بھی اٹھایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سماعت کے دوران خواجہ حارث کے دلائل کے جواب میں سپریم کورٹ نے کہا کہ انھیں جے آئی ٹی اور اس کی سفارشات کو نہیں بلکہ ان دستاویزات کو دیکھنا ہے جو جے آئی ٹی کے ساتھ لگائی گئی ہیں اور فیصلہ ان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
عدالت نے مزید کہا کہ وہ فیصلہ دیتے ہوئے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والے افراد کے رویے کو بھی دیکھے گی جو انھوں نے جے آئی ٹی کے ساتھ روا رکھا۔
عدالت نے کہا کہ بادی النظر شریف خاندان سے جو کچھ پوچھا گیا اس سے لگ رہا ہے کہ شریف خاندان نے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا۔
جسٹس اعجاز الحسن نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت نے شریف خاندان کو منی ٹریل کے لیے مناسب موقع فراہم کیا تھا لیکن ان کی جانب سے جے آئی ٹی میں ایسے جوابات پیش کیے گئے کہ ’مجھے کچھ نہیں پتہ' یا ’میں یقین سے نہیں کہہ سکتا' تو ایسے جوابات کی روشنی میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ بات آپ کے حق میں جائے گی۔
جسٹس اعجاز الحسن نے مزید کہا کہ ہم شروع سے ہی رقوم کی ترسیل کی منی ٹریل کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ قطری خطوط کو نہیں جانتے لیکن پھر انھوں نے کہا کہ شاید انھوں نے وہ دیکھے ہوئے ہوں۔
سماعت کے دوران مسلم لیگ نون، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ دیگر رہنماؤں کے ساتھ موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے پہلے پیر کو ہونے والی سماعت شروع ہونے سے قبل شریف خاندان اور اسحاق ڈار کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں میں جے آئی ٹی کی رپورٹ 'حدود سے تجاوز' کرنے اور 'اس میں نام نہاد شواہد شامل' کرنے جیسے مختلف اعتراضات لگاتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
ان اعتراضات میں مزید کہا گیا تھا کہ 'کہ جے آئی ٹی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور رپورٹ میں غیر جانبداری کا عنصر موجود نہیں ہے۔'
پیر کو ہونے والی سماعت میں مدعیان کے وکلا نعیم بخاری، آصف توفیق اور شیخ رشید نے دلائل دیے تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے لیے جے آئی ٹی کی سفارشات پر عمل درآمد لازم نہیں ہے اور اس معاملے کو قانون کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ دو ماہ تک اپنی تفتیش کرنے کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دس جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔










