سپریم کورٹ کے جج کے ریمارکس افسوسناک ہیں: ترجمان حکومت پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت پاکستان کے ترجمان کے جاری کردہ ایک بیان میں سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران ’ایک معزز جج کے مبینہ ریمارکس‘ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
جمعرات کی شام جاری کیے گئے ایک بیان میں لکھا ہے کہ ترجمان کی جانب سے ’ان مبینہ ریمارکس کو اعلیٰ عدلیہ کی روایات کے منافی‘ قرار دیا گیا ہے۔
اس بیان پر کوئی مہر ہے نہ ہی کوئی دستخط اور نہ ہی ترجمان کا نام ظاہر کیا گیا ہے لیکن ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ بیان وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیا گیا ہے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’معزز جج نے وزیراعظم کی جانب سے نہال ہاشمی کے خلاف اٹھائے گئے انتہائی تادیبی اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض سپریم کورٹ اور توہین عدالت نوٹس کا ردعمل قرار دیا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ترجمان کے مطابق ’حقائق نہ صرف اس کے برعکس ہیں بلکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا تمام ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حکومت نے نہال ہاشمی کے ریمارکس کے سامنے آتے ہی نہ صرف ان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا بلکہ فوری طور پر انھیں ان کی ذاتی سوچ کا عکاس قرار دیا۔‘
اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بیان میں کہا گیا ہے کہ نہال ہاشمی کے خیالات پہلی مرتبہ 31 مئی کی صبح الیکٹرانک میڈیا میں رپورٹ ہوئے اور اس کے بعد 31 مئی کی شام ساڑھے پانچ بجے نہال ہاشمی کے سیکرٹری سینیٹ کو تحریری استعفیٰ دینے تک تمام ٹائم لائن دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملے کا نوٹس اس کے بعد لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بدھ کی صبح وزیر اعظم نواز شریف قومی سلامتی سے متعلق اداروں کے سربراہان کے ساتھ میٹنگز اور کابینہ کے اجلاس میں مصروف تھے لیکن جیسے ہی وہ فارغ ہوئے تو یہ معاملہ ان کے علم میں لایا گیا اور انہوں نے فوری طور پر نہال ہاشمی کی پارٹی رکنیت معطل کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیا تھا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ توہینِ عدالت کے کیس کی سماعت کے دوران ایک معزز جج کی جانب سے حکومت کو ’سِسلی کی مافیا‘ قرار دینا انتہائی افسوس ناک ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی۔

اس سے پہلے جمعرات کی صبح نہال ہاشمی نے اُمید ظاہر کی تھی کہ عدالت اُنھیں معاف کر دے گی تاہم عدالت نے اُن کی درخواست منظور نہیں کی اور اُنھیں توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے پانچ جون تک جواب داخل کروانے کی مہلت دی ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے بدھ کی شب نہال ہاشمی کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا تھا جس میں انھیں پاناما لیکس کیس میں تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیتے سنا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نہال ہاشمی نے کہا کہ ’حساب لینے والے آج حاضر سروس ہیں، کل ریٹائر ہو جائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنا دیں گے۔‘
اس بیان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ نہال ہاشمی کی ذاتی رائے ہے اور مسلم لیگ ن قانون کی بالادستی میں یقین رکھتی ہے۔
ویڈیو میں نہال ہاشمی کو یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے 'اور سن لو جو حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ تو نواز شریف کا بیٹا ہے، ہم نواز شریف کے کارکن ہیں، حساب لینے والوں! ہم تمھارا یوم حساب بنا دیں گے۔'










