’شدید گرمی کی وجہ سے لوگ جیتے جی آگ میں رہنے پر مجبور‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں ان دنوں ماہِ رمضان کے دوران نہ صرف شہریوں کو ہر برس کی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے بلکہ اس بار گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کے مطابق ملک میں گرمی کی حالیہ لہر غیر معمولی ہے جس کے دوران صوبہ بلوچستان کے شہر تربت میں درجہ حرارت 54 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی وجہ سے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم ہوا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے ملک میں شدید گرمی کا ریکارڈ سال 2010 میں موہنجو داڑو میں بنا تھا جب درجہ حرارت 53.5 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا تاہم پیر کو تربت میں درجہ حرارت 54 سینٹی گریڈ پر پہنچ گیا جو کہ ایک قومی ریکارڈ ہے۔
گرمی میں شہریوں کو کیا کرنا چاہیے
دوسری جانب ماہِ رمضان کے دوران گرمی کی شدت کے ساتھ شہریوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اور اس حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی اور گرمی کی شدت کی وجہ سے طبی ماہرین نے روزہ داروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد میں سب سے بڑے سرکاری یونیورسٹی ہسپتال پمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق روزے کے دوران دوپہر کے وقت گھر سے غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے اجتناب کریں اور نکلتے وقت کوشش کریں کہ ہلکے کپڑوں کا استعمال کریں جس میں سفید رنگ کے کپڑے زیادہ مناسب ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے روز مرہ کے کام دوپہر سے پہلے اور شام کے قریب سرانجام دیں اور دوپہر کے وقت دفاتر اور گھروں کے اندر یا سایہ دار جگہ پر رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موٹر سائیکل سوار اور پیدل افراد باہر نکلتے ہوئے اپنے سر کو لازمی کپڑے سے ڈھانپیں اور اگر کپڑے کو پانی سے گیلا کر لیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔
ڈاکٹر جاوید اکرم نے مزید تاکید کہ سحری اور افطار کے وقت زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرنا چاہیے اور تلی ہوئی، مرچ مصالحوں والی اشیا سے گریز کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تربت میں ہو کا عالم
دوسری جانب تربت میں شدید گرمی نے شہر کو مفلوج کر کے رکھ دیا اور سڑکیں ویران اور شہر میں ہو کا عالم ہے۔
میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر نثار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ شدید گرمی اور دوسری جانب طویل لوڈ شیڈنگ نے زندگی کو مشکل بنادیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث 'یہاں کے لوگ جیتے جی آگ میں رہنے پر مجبور ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موسم کی اچھی خبر
تاہم محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول نے اس کے ساتھ اچھی خبر بھی سنائی کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے شدید گرمی کی لہر میں کمی متوقع ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ منگل کی رات کو ملک کے شمالی علاقوں سے مغربی ہواؤں کی ایک لہر گزرے گی جس کے نتیجے میں بلائی علاقوں، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بادل بنیں گے اور اس لہر کا اثر آئندہ 48 گھنٹوں تک رہے گا۔
انھوں نے کہا ہے کہ مغربی ہواؤں کی لہر کا اثر سندھ اور بلوچستان میں بھی ہو گیا جہاں گرمی کی شدت میں کمی ہو گی۔







