قومی اسمبلی اجلاس: ’پاناما لیکس میں نامزد افراد کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں`

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخِالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے پانامالیکس سے متعلق پیش کیا گیا بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والا یہی بل سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور ہو چکا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر کی طرف سے پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے گئے بل میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں۔
نوید قمر کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی جنہوں نے ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنائی ہیں اور جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں ہے اور سے متعلق عدالت عظمی پہلے ہی آبزرویشن دے چکی ہے اس لیے اب مزید ایسے کسی بل کی ضرورت نہیں ہے۔
جب اس بل پر رائے شماری کروائی گئی تو حزب مخالف کے بینچوں پر بیٹھے ہوئے ارکان نے بھی اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما لیکس سے متعلق وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے خلاف تحقیقات کرنے والی ٹیم نے وزیر اعظم کے بیٹوں کی طرف سے مختلف میڈیا پر آنے والے بیانات کے بارے میں وزارت اطلاعات سے ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے جبکہ اس سے پہلے اثاثوں کی چھان بین کے لیے ایف بی آر سے بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا ہے۔
دوسری طرف قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ڈان لیکس سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کو ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ڈان لیکس کا معاملہ حکومت اور فوج کے درمیان نہیں بلکہ ملکی سلامتی سے متعلق ہے جس میں ملک کے20 کروڑ لوگ شامل ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ڈان لیکس اگر ملکی سلامتی کا مسئلہ نہیں ہے تو پھر کورکمانڈرز کے اجلاس میں شرکا اور وزیر داخلہ اس کو قومی سلامتی کا مسئلہ کیوں قرار دیتے رہے ہیں۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کور کمانڈرز اور وزیر داخلہ پہلے اپنے بیانات سے دستبردار ہوں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پی ٹی آئی سے ہی تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور خارجہ امور کے بارے میں پالیسیاں بنانا کسی ادارے کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا کام ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر ڈان لیکس سے متعلق خبر غلط ہے تو پھر اس کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کیسے اعلی سطحی اجلاس کے بارے میں غلط خبر دی گئی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی سے متعلق اہم امور بند کمروں کے اجلاس میں طے کر لیے گئے اور عوام کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کی طرف سے ٹویٹ واپس لینے سے معاملہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس بارے میں حکومت کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس میں طارق فاطمی کو ملکی سلامتی کے منافی اقدام کرنے پر ہٹایا گیا تو پھر وہ وزیر اعظم کے ہمراہ ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ چین میں کیا لینے گئے ہیں۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ان تمام معاملات کا حل یہی ہے کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے۔ اُنھوں نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے متفقہ قرارداد ایوان میں پیش کی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔










