ڈان لیکس کے معاملے پر پارلیمان کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا: اعتزاز احسن

اعتزاز

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کا معاملہ وزیر اعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان طے پایا ہے لیکن اس میں پارلیمان کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

جمعے کو سینیٹ کے اجلاس میں نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ نہ حکومت اور نہ ہی فوج پارلیمنٹ سے بالاتر ہے اور یہ رپورٹ ایوان میں پیش کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو فریق اس معاملے پر مک مکا کر کے اسے رفع دفع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر یہ معاملہ دو فریقوں کے درمیان طے ہوا ہے تو وہ دونوں پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اعتزاز احسن نے کہا کہ سات ماہ تک ڈان لیکس کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا جاتا رہا اور پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ ساتویں ماہ میں یہ معاملہ طے کر لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے تین لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا جو اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک ہی نہیں تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ کے بعد حکومتی بینچوں میں جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی 29 اپریل کی ٹویٹ کا عکس

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے میں یہ بات قابلِ اطمینان ہے کہ فوج نے سویلین اتھارٹیز کے سامنے سر جھکایا ہے۔ تاہم انھوں نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ بات کہنے کی ان میں خود ہمت نہیں جن کے سامنے سر جھکایا گیا ہے۔'

اُنھوں نے کہا کہ 29 اپریل کو آئی ایس پی آر کی طرف سے صرف ایک لائن میں ہی وزیر اعظم ہاوس کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا گیا جبکہ 8 مئی کو جاری ہونے والی پریس ریلیز میں شرمندگی نظر آ رہی ہے۔

اُنھوں نے ڈان لیکس سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کو ایوان میں پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور یہ بھی کہا کہ ایسی فوج کا مورال بلند رکھنا ضروری ہے جس کا سپاہی جنگ لڑ رہا ہو۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کا اتنا اہم معاملہ زیر بحث ہے اور وزیر داخلہ ایوان میں موجود نہیں۔

پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد اعتزاز احسن کی تقریر کا جواب دینے کے لیے اُٹھے تو حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے شور مچانا شروع کر دیا اور پھر ایوان سے واک آؤٹ بھی کر گئے۔