پاڑہ چنار دھماکہ: ہلاک شدگان کی تدفین اور سوگ

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے قبائلی علاقے پاڑہ چنار کے مختلف دیہاتوں میں سنیچر کو 24 افراد کی تدفین کر دی گئی جبکہ شہرمیں سوگ کی کیفیت ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میاں بیوی اور ان کے تین بچے ایک بیٹے کے علاج کے لیے قریبی گاؤں سے آئے تھے۔ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت پانچوں افراد بازار میں خواتین کی امام بارگاہ کے قریب تھے۔
جمعے کی صبح پاڑہ چنار میں کار بم دھماکے میں 100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ 34 زخمیوں کو گذشتہ روز پشاور منتقل کر دیا گیا تھا۔
مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز دھماکے کے بعد جب غم زدہ لوگ احتجاج کر رہے تھے تو اس وقت ایف سی کے اہلکاروں نے فائرنگ کی تھی جس میں چار افراد زخمی ہوئے تھے‘۔
اس کے بعد لوگوں نے میتیں پولیٹکل انتظامیہ کے کمپاؤنڈ کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا تھا۔ اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ دھماکے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس سلسلے میں رات دیر تک انتطامیہ سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد عمائدین کے کہنے پر مظاہرین منتشر ہو گئے تھے۔
میتیں گذشتہ رات گئے اپنے آبائی علاقوں کو پہنچا دی گئی تھیں لیکن ان کی تدفین سنیچر کی صبح کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گورنر خیبر پختونخوا اور کور کمانڈر کو مقامی رہنماؤں نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جس کے بعد ایف سی کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جنھوں نے گذشتہ روز مظاہرین پر فائرنگ کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مقامی رہنما شبیر ساجدی نے بی بی سی کو بتایا کہ آج اعلیٰ حکام سے مذاکرات بظاہر تو کامیاب ہوئے ہیں لیکن وہ ان یقین دہانیوں پر عمل درآمد دیکھنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ان کے قبائل کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کے کرم ایجنسی میں موجود شدت پسندوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرے۔
پاڑہ چنار میں سنیچر کو بازار اور کاروباری مراکز بند رہے اور ٹریفک معطل رہی ہے۔ شہر میں سوگ تھا جہاں جگہ جگہ لوگ فاتحہ خوانی اور مرحومین کے لیے قرآن خوانی کرتے رہے۔
کرم ایجنسی سے منتخب رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری کا تعلق بھی پاڑہ چنار سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ احتجاج گورنر اور دیگر حکام سے ملاقات کے لیے نہیں گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر وزیر داخلہ اور ایف سی حکام کی جانب سے وعدے کیے جاتے ہیں اور ایسے واقعات کے نوٹسز بھی لیے جاتے ہیں لیکن عمل کچھ نہیں ہوتا پھر چند ماہ بعد کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے۔
پاڑہ چنار میں دو ماہ میں یہ دوسرا بڑا دھماکہ ہوا ہے۔ جنوری کے مہینے میں سبزی منڈی میں دھماکے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد شدت پسند تنظیم داعش نے پمفلٹ تقسیم کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ پاڑہ چنار سمیت دیگر چند علاقوں میں مزید حملے کریں گے۔









