الطاف حسین کا معاملہ برطانوی پولیس کا ہے: برطانوی وزیر داخلہ ایمبر رود

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی وزیر داخلہ ایمبر رود نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین سے متعلق معاملات کا تعلق برطانوی پولیس سے ہے اور اس معاملے میں انصاف کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جاتا اور نہ ایسے لوگوں کو جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے بچ سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس میں ذاتی طور پر کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی لیکن بحیثیت ہوم سیکرٹری یہ یقینی بنائیں گی کہ برطانیہ کا قانون لاگو ہو اور پولیس اور سی پی ایس ضروری اقدام کرتے رہیں۔
ایمبر رود پاکستانی ہم منصب کے ساتھ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے بات کر رہی تھیں۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ الطاف حسین سے متعلق معاملات پر دونوں ممالک میں وزرائے داخلہ کی سطح پر کوئی اختلاف نہیں ہے، انتظامی اور قانونی سطح پر مسائل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں گذشتہ اور موجودہ ہوم سیکرٹریز کے ساتھ ساڑھے تین سال سے بات چیت کر رہے ہیں اور حالیہ ملاقات میں بات چیت سے بہت مطمئن ہیں۔
پاک افغان بارڈر تنازعے کے حوالے سے چوہدری نثار علی خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کم کرنے میں حکومت برطانیہ کا تعاون شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اورافغانستان کے مشیر قومی سلامتی کی لندن میں حالیہ ملاقات میں حکومت برطانیہ کا تعاون شامل رہا اور اس بات چیت کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں کشیدگی اور شبہات کم کرنے میں مثبت پیش رفت دیکھی گئی۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ طورخم بارڈر کھلنے کا ہے۔
دونوں وزرائے داخلہ کی ملاقات میں دو معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ جن میں دستاویزات کے بغیر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے متعلق معاہدہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ بنیاد پر وزرا کی ملاقاتوں کا سمجھوتہ بھی طے پایا۔
پریس کانفرنس میں ایمبر رود کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور برطانوی وزیر اعظم کے انسداد دہشت گردی کے لیے خصوصی ایلچی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے جس کا مقصد پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان میں مزید تعاون فراہم کرنا ہوگا۔







