امریکیوں کو ویزے دینے پر کمیشن بنانے کی تجویز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے بیان پر پارلیمانی کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر کہا کہ قائد حزب اختلاف کی جانب سے پاکستان کے امریکہ میں سابق سیفر حسین حقانی کو محض ’غدار‘ قرار دینے سے معاملہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس کی تحقیقات کی بھی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ حسین حقانی نے سابق دور حکومت میں امریکیوں کو جانچ پڑتال کے بغیر ہزاروں ویزے جاری کیے اور اس میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک بھی شریک تھے۔
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی کلیرنس کے بغیر ہزاروں امریکیوں کو اتنے ویزے کیسے جاری کیے گئے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے ملک کے خلاف اقدامات کی اجازت دی اور امریکیوں کو واشگنٹن اور دبئی سے ویزے جاری کیے گئے۔
اُنھوں نے کہا کہ حسین حقانی سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کروا کر بیرون ملک گئے تھے کہ عدالت جب بھی طلب کرے گی تو وہ پاکستان واپس آجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطالبے پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بھی ایوان میں زیر بحث لانا چاہیے کہ اسامہ بن لادن پاکستان کیسے آیا؟
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انھوں نے کہا کہ ایوان کو یہ بھی بتایا جائے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیے اسامہ بن لادن کو فنڈنگ کس نے کی تھی۔
سید خورشید شاہ کا کہنا تھا وزیر اعظم نواز شریف 160 دن تک اسمبلی نہیں آئے جب کہ پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی 120 دن کا تھا۔
انھوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب وہ مشکلات کا شکار ہوتی ہے تو اس وقت وزیر اعظم سمیت وزرا پارلیمان کو اہمیت دیتے ہیں اور جب مشکل ٹل جائے تو وہ کسی کو بھی نہیں پوچھتے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سنییئر جج جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جنھوں نے اپنی حتمی رپورٹ اس وقت کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو دی تھی تاہم اس رپورٹ کو منظرِ عام نہیں کیا گیا تھا۔







