اسامہ نے جہاد کے لیے دو کروڑ، نوے لاکھ ڈالر کی رقم چھوڑی

اوساما بن لادن پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں سنہ 2011 میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناوساما بن لادن پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں سنہ 2011 میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے

االقاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وصیت کے مطابق وہ ورثے میں دو کروڑ نوے لاکھ ڈالر چھوڑ کرگئے ہیں۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں سنہ 2011 میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں ہلاک ہونے والے دنیا کے سب سے مطلوب شخص کے گھر سے ملنے والی دستاویزات میں ان کی یہ وصیت بھی امریکی فوج کو ملی تھی۔

یہ وصیت امریکی ذرائع ابلاغ کو منگل کو جاری کی جانے والی دیگر دستاویزات میں شامل تھی۔

انھوں نے اس وصیت میں اپنے اہل خانہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہ رقم اللہ کی خوشنودی کے لیے جہاد پر خرچ کریں۔

اپنے والد کے نام ایک اور خط میں اسامہ نے انھیں اپنی موت کی صورت میں اپنی بیوی اور بچوں کا خیال رکھنے کی درخواست کی۔

ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ذہن میں تھا کہ وہ کسی وقت بھی ہلاک کیے جا سکتے ہیں۔

اوسامہ نے ایک اور تحریر میں کہا کہ ’میری موت کی صورت میں میرے لیے بہت ساری دعائیں کریں اور میرے نام پر خیرات کریں کیونکہ مجھے ان کی بہت ضرورت ہو گی کہ میں اپنے مستقل مقام تک پہنچ سکوں۔‘

اوساما کے بعد ان کی تنظیم القاعدہ کی سربراہی ان کے دست راست ایمن الاضواہری کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناوساما کے بعد ان کی تنظیم القاعدہ کی سربراہی ان کے دست راست ایمن الاضواہری کر رہے ہیں

اسامہ کی وصیت میں کہا گیا ہے کہ ان کی وارثت سوڈان میں ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کسی اثاثے کی صورت میں موجود ہے یا یہ رقم کی صورت میں ہے اور آیا یہ اس کے ورثا تک پہنچی ہے یا نہیں۔

بن لادن سوڈان کی حکومت کی دعوت پر سنہ 1990 کی دہائی میں پانچ برس تک مسلسل سوڈان میں رہے۔

دوسری دستاویزات میں انھوں نے افغانستان میں امریکہ کی جنگ اور مغرب کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ مغرب اور امریکہ کا خیال تھا کہ یہ کوئی مشکل جنگ نہیں ہو گی اور وہ چند دنوں یا پھر ہفتوں میں اپنے اہداف حاصل کر لیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں صبر سے کام لینا ہو گا اور ہم صبر سے جنگ جیت سکتے ہیں۔‘

ایبٹ آباد میں ان کی ہلاکت کے بعد سے ان کی تنظیم القاعدہ کی سربراہی ان کے دستِ راست ایمن الظہوری کر رہے ہیں۔