اسامہ کے’بیٹے حمزہ‘ کا القاعدہ کی جانب سے آڈیو پیغام

اسامہ کے بیٹے حمزہ کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسامہ کے بیٹے حمزہ کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں

شدت پسند تنظیم القاعدہ نے اپنے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن سے منسوب ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کی پروپیگنڈا مہم میں پہلی بار اسامہ کے بیٹے کو تنظیم کے باضابطہ رکن کے طور پر پیش کیا ہے۔

القاعدہ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے آڈیو پیغام کو القاعدہ کے حامیوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔

حمزہ بن لادن نے اپنے پیغام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے کرنے پر زور دیا ہے۔

حمزہ کے آڈیو پیغام میں انھوں نے کابل، بغداد اور غزہ میں اپنے حامیوں کو پیغام دیا ہے کہ واشنگٹن، لندن، پیرس اور تل ابیب میں جہاد کریں گے۔

حمزہ کے والد اسامہ بن لادن 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی سپیشل فورسز کی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے

اسامہ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی قیادت ایمن الظواہری کے پاس ہے۔

ایمن الظواہری کی جانب سے گذشتہ دنوں ایک آڈیو پیغام سامنے آیا تھا جس میں انھوں افغان طالبان کے نئے امیر سے وفاداری کا اعلان کیا۔

یہ پیغام ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ملا امیر کے انتقال کی تصدیق کے بعد ان کی انتقال کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔

حمزہ بن لادن کے بارے میں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی عمر کے بارے میں واضح معلومات نہیں اور خیال کیا جا رہا کہ وہ 20 کے پیٹے میں ہیں۔

2001 میں امریکہ کے افغانستان میں حملے کے بعد الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک کی جانب سے نشر کی جانے والی فوٹیج میں حمزہ بن لادن طالبان جنگجوؤں کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے تھے۔