آپریشن رد الفساد: ’پنجاب میں پولیس کی توجہ پشتونوں اور افغان مہاجرین پر‘

رانا ثنا اللہ

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صوبے کے ان علاقوں میں پولیس تلاشی کا آپریشن کر رہی ہے جہاں پر پشتونوں اور افغان مہاجرین کی آبادی زیادہ ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے آپریشن میں مخصوص قوموں پر زیادہ توجہ دینے کے بارے میں بتایا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والے شدت پسندی کے بدترین واقعات میں قبائلی علاقوں کے رہائشی ملوث تھے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ گذشتہ برس ایسٹر کے موقع پر گلشن اقبال پارک میں ہونے والے خودکش حملے میں ملوث ہونے کے شک پر 11افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا تعلق قبائلی علاقے مہمند اور باجوڑ ایجنسی سے تھا۔

'ان کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا تو ہم نے سوچا کہ ہمیں ان علاقوں میں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر باجوڑ، مہمند کے رہائشی آباد ہیں اور وہ علاقے جہاں پر ایسے افغان مہاجرین موجود ہیں جن کا اندراج نہیں ہوا ہے۔'

تاہم وزیر قانون نے ان الزامات کی تردید کی کہ حکومت شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران کی جانے والی پروفائلنگ میں پختونوں کو ہدف بنا رہی ہے۔

رینجرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپنجاب میں سکیورٹی آپریشن 'ردالفساد' کے تحت سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے

دوسری جانب اے پی نے پنجاب پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبے بھر میں تقریباً دو ہفتوں سے جاری آپریشن میں اب تک 1300 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دو پولیس اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک 36 شدت پسند سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلوں میں مارے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے نتیجے میں آپریشن رد الفساد کے آغاز کے بعد سے پنجاب میں پشتون آبادی سے نسلی امتیاز برتنے کی خبریں پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گرم ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی نے پختونوں سے 'نسلی امتیاز' روا رکھے جانے کے خلاف ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی جبکہ حقوقِ انسانی کے پاکستانی کمیشن نے بھی پنجاب میں حکام کی جانب سے شدت پسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے کی مہم کے دوران 'بظاہر نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک' کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

پشتون

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآپریشن رد الفساد کے آغاز کے بعد سے پنجاب میں پشتون آبادی سے نسلی امتیاز برتنے کی خبریں پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گرم ہیں

حکومت پنجاب پر تنقید کے بعد صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کی تلاش کے عمل کے دوران کسی خاص کمیونٹی کو ہدف نہیں بنایا جا رہا اور ایسی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے حکومت اس پر معذرت خواہ ہے تاہم ان کارروائیوں کے بغیر دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں ناکام نہیں بنایا جا سکتا۔