سیاسی جماعتوں کو کم از کم 5 فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کا پابند بنانے کی تجویز

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات کے ایک پیکج کی منظوری دی ہے جس کے تحت سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات میں کم از کم پانچ فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کا پابند بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ان اصلاحات کے تحت ہر حلقے میں خواتین کے کم از کم دس فیصد ووٹ پول ہونا بھی لازمی قرار دیا جائے گا۔
توقع ہے کہ ان تجاویز پر غور کے بعد آئندہ ماہ انھپں پارلیمان میں قانون سازی کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کا مسودہ دوسری مرتبہ پیش کیا گیا۔ اس سے قبل 2018 کے عام انتخابات کے لیے قوانین کا جائزہ لینے کے لیے انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے گذشتہ دسمبر میں مختلف تنظیموں سے تجاویز طلب کی تھیں۔
پاکستان میں خواتین کی شمولیت ہر انتخاب میں ایک بڑا موضوع بحث رہا ہے۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں مرد امیدوار آپس میں اتفاق رائے سے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔
اس کی ایک حالیہ مثال خیبر پختونخوا کے ضلع دیر پایاں میں ضمنی انتخاب میں عورتوں کو ووٹ کا حق نہ دینا تھا۔ اس پر حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی کڑی تنقید کرتی آئی ہیں لیکن صورتحال میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔
ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں 2002 سے لے کر 2013 کے عام انتخابات تک عام نشستوں پر خواتین امیدواروں کی تعداد ایک مقام پر رکی ہوئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی خواتین کو عام نشستوں پر ٹکٹ جاری نہ کرنا رہی ہے۔
گذشتہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے محض 36 عام نشستوں کے لیے خواتین کو ٹکٹ جاری کیے گئے جبکہ 2008 کے انتخابات میں یہ تعداد 34 اور 2002 میں 38 تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماجی کارکن گل مینہ بلال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کابینہ میں پیش کی گئی تجویز کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ پانچ فیصد ٹکٹیں سیاسی خاندانوں کی خواتین کی پارلیمان میں آمد کو یقینی بنانے کا سبب بنے گا۔
سماجی تجزیہ کاروں کے بقول محض قانون سازی سے خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت بڑھانے میں مدد نہیں مل سکتی بلکہ قدامت پسند علاقوں میں مردوں کی سوچ بھی تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں ہر حلقے میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کا عمل یقینی بنانے کے بارے میں دی جانے والی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے گل مینہ بلال کہتی ہیں کہ اس کے لیے طویل وقت درکار ہوتا ہے۔
'اگر دس فیصد خواتین کی ووٹنگ کی شرط ہوگی تو خاندان، پولنگ ایجنٹس اور سیاسی جماعتیں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گی۔ مزید یہ کہ جرگے کے فیصلوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی جو عورتوں کو ووٹ کرنے کے حق سے محروم رکھتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے انتخابی تجاویز کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انتخابی کمیشن کو سپریم کورٹ کی طرز پر انتظامی اور مالی طور پر خودمختاری دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
ان کے مطابق منظور کی گئی دیگر تجاویز میں امیدوار اپنے انکم ٹیکس کے گوشواروں کے ساتھ جمع کرائے گئے ویلتھ ٹیکس کی تفصیل اب کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کروانے کے پابند ہوں گے۔ اس کا مقصد بقول وزیر قانون کے ان دستاویزات کی جانچ پڑتال کو آسان بنانا ہے۔
اس کے علاوہ اضافی ووٹوں کی چھپائی کے مسئلے کے حل کے لیے انتخابی کمیشن اب محض درج شدہ ووٹروں کی تعداد کے مطابق ووٹ چھاپ سکیں گے جبکہ اگر کامیاب اور ناکام امیدواروں کے ووٹوں کا فرق اگر دس ہزار سے کم ہوا تو دوبارہ گنتی وہیں لازمی ہوگی اور اسی وقت کر دی جائے گی۔
کابینہ نے خصوصی افراد کو پہلی مرتبہ پوسٹل بیلٹ کی اجازت دینے کی تجویز کو بھی سراہا ہے۔








