’پارلیمانی کمیٹی کی انتخابی اصلاحات کالا قانون قرار‘

پاکستان پارلیمان

پاکستان میں انتخابات کو مانیٹر کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فیفن) نے پاکستانی پارلیمان کی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے انتخابات کو بہتر بنانے کے حوالے سے مجوزہ بل کا جائزہ لینے کے بعد اسے خوش آئند تو کہا ہے لیکن اس کی بعض شقوں کو کالا قانون بھی قرار دیا ہے۔

اس مجوزہ قانون کی دفعہ 194 سی کے مطابق قانونی دفعات کی خلاف ورزی سے حاصل کی جانے والی معلومات کی اشاعت یا ترسیل پر 50 لاکھ جرمانہ اور پانچ سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اسی طرح کمیشن کے کسی غیر مجاز عہدیدار کی جانب سے معلومات کی اشاعت و ترسیل پر بھی سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

فیفن کا کہنا ہے کہ ان سزائوں کا مقصد معلومات تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔ اس پابندی سے صحافی خاص طور پر متاثر ہوں گے۔

فیفن کے پروگرام ہیڈ مدثر رضوی کا کہنا ہے کہ اس سے مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔

نامہ نگار نازش ظفر کے مطابق مدثر رضوی نے مسودے میں میڈیا سے متعلق شق کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شق کی واپسی کے لیے فیفن صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر مسودے کا جائزہ لینے والی کمیٹی پر دباؤ بڑھائے گی جس میں ناکامی کی صورت میں عدالت عظمی سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

مدثر رضوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکروٹنی، ریٹرننگ افسر کے کمرے میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی تیاری کے دوران بھی میڈیا کی رسائی یقینی بنائی جائے۔

معلومات کی فراہمی پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت شہریوں کا حق ہے۔

فیفن کا الیکشن کمیشن کے حوالے سے کہنا ہے کہ کمیشن کی خود مختاری کے لیے پیش رفت موجود ہے لیکن اسے حکومتی مداخلت سے مکمل آزاد بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

پاکستان انتخابات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فیفن کے مطابق الیکشن کمیشن کو مجوزہ قانون کے تحت قواعد بنانے کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن اسے حکومتی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک ہی خاندان کے کئی افراد کے الیکشن لڑنے کا معاملہ حل نہیں کیا گیا نہ ہی فیفن کی اس تجویز پر عمل درآمد کیا گیا جس کے مطابق ایک شخص کے ایک سے زائد نشستوں سے انتخاب لڑنے پر پابندی ہونی چاہیے۔

فیفن کے مطابق مسودے میں بیرونی امداد سے چلنے والی سیاسی جماعت پر تو پابندی عائد کی گئی ہے لیکن سمندر پار پاکستانیوں اور دوہری شہریت والے افراد کے سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے متعلق یہ قانون خاموش ہے۔

مجوزہ قانون میں خواتین کے سیاسی و انتخابی عمل میں شمولیت کے لیے سیاسی جماعتوں پر کم از کم پانچ فیصد عام نشستوں کی ٹکٹیں خواتین امیدواروں کو دینے کی شرط رکھی گئی ہے جو فیفن کے مطابق اہم ہے تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ اس مسودے میں دیگر کمزور طبقات یعنی مذہبی اقلیتوں، معذور افراد اور خواجہ سراؤں کے انتخاب میں شرکت کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔