قومی احتساب بیورو کا نام قومی احتساب کمیشن رکھنے پر ’اتفاق‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں احتساب کے ادارے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کا نام تبدیل کرنے اور اس میں بھیجے جانے والے مقدمات کی تفتیش کے لیے الگ ادارہ قائم کرنے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔
اس بات پر اتفاق رائے نیب کے قوانین کا از سرنو جائزہ لینے کے بارے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔
وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے مطابق قومی احستاب بیورو کا نام تبدیل کرکے اس کا نام قومی احتساب کمیشن رکھنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس ادارے کے سربراہ کے بارے میں ابھی حمتی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ اس کا چیئرمین عدلیہ سے ہوگا یا کسی دوسرے ادارے سے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کمیٹی کے ارکان نے اس ضمن میں غوروخوض کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔
پارلیمنٹ کی اس مشترکہ کمیٹی کے ارکان کی زیادہ تعداد اس بات پر متفق ہے کہ اس ادارے کا سربراہ عدلیہ سے ہی لیا جائے۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان مقدمات کی تفتیش کرنے والے ادارے کو اکاؤنٹیبلٹی انویسٹیگیشن ایجنسی کا نام دیا جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ نیب کے کیسز تفتیش کے لئےمقدمات ایف آئی اے کے بجائے تجویز کردہ ایجنسی کے پاس جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زاہد حامد کا کہنا تھا کہ مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ طے ہوا کہ نیب کے مقدمات کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کرے گا تاہم اس جج کی تقرری متعقلہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کرے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان سے اکاؤنٹیبلٹی انویسٹیگیشن ایجنسی کے دائرہ اختیار کے بارے میں بھی تجاویز مانگی گئی ہیں۔
’ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں بدعنوانی کی تعریف کے بارے میں غور کیا جائے گا اور اس بات کا امکان ہے کہ بدعنوانی کی تعریف میں کچھ تبدیلی ہو جائے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ قرض نادہندہ کے مقدمات انہی قوانین کے تحت الگ عدالتوں میں بھیجے جائیں گے۔
واضح رہے کہ عدلیہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتیں نیب کے قوانین اور بلخصوص پلی بارگین کے قانون کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے نیب کے چیئرمین سےملزموں سے پلی بارگین کرنے کے صوابدیدی اختیار پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر رکھی ہے۔









