جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظر بندی قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ ہے: پاکستانی فوج

حافظ سعید

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو پیر کو رات گئے لاہور میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا

پاکستانی فوج کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظربندی کو ریاست کی جانب سے قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔

ادھر جماعت الدعوۃ نے حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف منگل کو اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کیا ہے۔

فوج کی جانب سے حافظ سعید کے بارے میں بیان راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی پہلی میڈیا بریفنگ میں سامنے آیا۔

اس سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’حافظ محمد سعید کی نظربندی ایک پالیسی فیصلہ ہے جو قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریاستی اداروں نے یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا ہے جس میں بہت سے اداروں کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا اور آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

میجر جنرل آصف غفور

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنمیجر جنرل آصف غفور کے مطابق حافظ محمد سعید کی نظربندی ریاست کا ایک پالیسی فیصلہ ہے جو قومی مفاد میں کیا گیا ہے

اس سوال پر کہ آیا حافظ سعید کی نظربندی غیر ملکی دباؤ کا نتیجہ ہے، اس پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’آزاد اور خودمختار ریاستیں اپنے قومی مفاد میں یہ فیصلے لیتی ہیں اور جو فیصلہ بھی ریاست لے گی وہ ملکی مفاد میں ہو گا۔‘

خیال رہے کہ پیر کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے خلاف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اقدامات کے اعلان کے بعد رات گئے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو لاہور میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

ان کی یہ نظربندی چھ ماہ کے لیے ہے۔ حافظ سعید کے ساتھ ساتھ جماعت الدعوۃ کے چار دیگر رہنماؤں عبداللہ عبید، ظفر اقبال، عبدالرحمن عابد اور قاضی کاشف نیاز کو بھی اے ٹی اے 1997 کے سیکشن 11 ای ای ای کے تحت حفاظتی تحویل میں لینے کا حکم بھی جاری ہوا ہے۔

حافظ سعید کی نظربندی کے خلاف ان کی جماعت کی جانب سے لاہور میں پنجاب اسمبلی جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کی وزاتِ داخلہ کے حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق فلاح انسانیت اور جماعت الدعوۃ کو واچ لسٹ اور سیکنڈ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

کراچی میں مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی میں منعقدہ مظاہرے میں شرکا نے حافظ سعید کی حمایت میں لکھے گئے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

اس کے بعد سنہ 2014 میں امریکہ نے بھی جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس پر مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں۔

تاہم پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جماعت الدعوہ کی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کو بھی واچ لسٹ میں ڈالا گیا ہے۔

اس بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار عامر رانا نے کہا کہ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کے حوالے سے پاکستانی حکومت پر دباؤ تھا۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ 'عالمی مالیاتی اداروں کے تحفظات تھے کہ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن اپنے کچھ منصوبے پاکستان سے باہر پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ جو ٹرانزیکشنز ہو رہی تھیں ان پر پاکستان کے اوپر اعتراضات ہوتے رہے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ یہ بھی خطرہ تھا کہ اس کی وجہ سے پاکستان پر بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کے حوالے پابندی لگ سکتی ہے۔

جماعت الدعوہ کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کی حراست کے خلاف وہ ایک بار پھر عدالت سے رجوع کرے گی۔ جماعت الدعوہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت اس بارے میں حتمی فیصلہ قانونی مشاورت کے بعد ایک دو دن میں کرے گی۔