’شراب، چرس باآسانی یونیورسٹی میں مل جاتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبید ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے کئی بڑے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی بازگشت اب اکثر سُنائی دینے لگی ہے جس سے اساتذہ اور والدین دونوں ہی پریشان ہیں۔
اکثر والدین تو اس وجہ سے پریشان ہیں کہ کہیں اُن کے بچے اس بُری عادت میں مبتلا نہ ہو جائیں اور اکثر اپنے بچوں کے منشیات کے عادی ہو جانے کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں 76 لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔ پریشان کُن بات یہ ہے کہ 76 لاکھ لوگوں کی بڑی تعداد 24 سال سے کم عُمر افراد کی ہے۔
پاکستان کے ایوان بالا میں بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا معاملہ ایک غیر سرکاری تنظیم ساسی کی جانب سے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بھی اُٹھایا گیا۔
یہ بات کس حد تک درست ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال عام ہے، اس بات میں صداقت کا تب علم ہوا جب پاکستان کی ایک نامور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے احمد (فرضی نام) نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ لمبے عرصے سے منشیات کا استعمال کر رہے ہیں انہیں شراب اور چرس باآسانی یونیورسٹی میں ہی مہیا کر دی جاتی ہے۔
احمد کا کہنا ہے کہ ’میں اس عادت کو چھوڑنا چاہتا ہوں مگر میرے دوست مُجھے اس سے دور نہیں جانے دیتے۔'
احمد یونیورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت کے ایک نامور کالج میں پڑھاتے بھی ہیں۔
احمد کی طرح ہی عثمان (فرضی نام) بھی لاہور کے ایک کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی میں پہنچے تو انھیں بھی اُن کے چند دوستوں نے نشے کا عادی بنا دیا۔ پہلے چرس اور پھر ہیروئین کی عادت پڑ گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم جب انھوں نے اس لت کے بارے میں اپنے بھائی کو بتایا تو انھوں نے نشہ چھڑوانے میں ان کی مدد کی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’اب مُجھے زندگی اچھی لگتی ہے، مُجھے دھوپ اچھی لگتی ہے، مُجھے اپنے والدین کی خوشی سے خوشی محسوس ہوتی ہے۔'
عثمان کے بھائی محمود (فرضی نام) نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب اُنھیں عثمان نے اپنی اس عادت کے بارے میں بتایا تو اُنھیں بہت غصہ آیا اور کئی دن تک اُنھوں نے عثمان سے بات نہیں کی مگر جب اُنہیں یہ احساس ہوا کہ اُن کا ایسا رویہ عثمان کی مدد نہیں بلکہ اُنھیں مزید مُشکل میں مبتلا کر دے گا تو اُنھوں نے اس فاصلے کو ختم کر کے عثمان سے بات کی اور اُن کی مدد کی۔
مُلک کے تعلیمی اداروں میں یہ منشیات پہنچتی کس طرح سے ہیں؟ اس بارے میں طلبہ کا کہنا ہے کہ اُن کے کالج اور یونیورسٹی کے گارڈز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بلکہ اس بارے میں تو احمد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُن کی یونیورسٹی کے گارڈ کو منشیات فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اُن سے منشیات برآمد بھی ہوئیں اور اُنھیں اپنے ملازمت سے بھی ہٹا دیا گیا، مگر ایک ہفتے کے بعد وہ گارڈ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کُچھ تعلیمی اداروں کے باہر کھڑے چند ٹیکسی چلانے والے بھی یہ کام کرتے ہیں۔ معلومات حاصل کرتے ہوئے یہ بھی پتہ چلا کہ اس کام میں تعلیمی اداروں کے قریب موجود ہوٹل میں کام کرنے والے اور چند ایک جرنل سٹور بھی ملوث ہیں۔
سیینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے حوالے حقائق پیش کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساسی کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ سُلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ '18 ماہ کے سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کے بچے بالعموم اور نجی تعلیمی اداروں کے بچے بالخصوص کسی نا کسی صورت میں منشیات کے عادی ہیں اور اگر بات کی جائے شرح کی تو یہ شرح 43 سے 53 فیصد ہے۔'
ماریہ سُلطان کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے ایسی بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں کہ جن کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس سارے معاملے میں کہیں نہ کہیں ضرور قصور وار ہے۔
کہیں تو یہ بھی سُنا گیا کہ تعلیمی ادارے کا سکیورٹی پر مامور گارڈ ہی بچوں کو یہ زہر فراہم کرتا ہے اور اگر وہ یہ موت کا سودا کرتا پکڑا بھی جائے تو چند دن کے وقفے کے بعد وہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ جاتا ہے۔









