سردی آ ہی گئی: کوئٹہ میں برف، کراچی بھی جل تھل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے جنوبی علاقوں میں موسم سرما نے اپنا رنگ جمانا شروع کر دیا ہے، جہاں کوئٹہ میں موسم کی پہلی برفباری ہوئی وہیں کراچی میں وقفے وقفے سے ہونی والی بارش نے شہریوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے۔
طویل عرصے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ نے برف کی سفید چادر اوڑھی۔
برفباری کا سلسلہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جمعے کی شب شروع ہوا جو وقفے وقفے سے سینیچر کو بھی جاری رہا۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق طویل عرصے بعد ہونے والی برفباری سے شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے اور انھوں نے برف سے لطف اندوز ہونے کے لیے تفریحی مقامات کا رخ کیا۔
کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے لان میں برف سے لطف اندوز ہونے والے جمعہ گل اور دیگر شہریوں کا کہنا تھا کہ انہیں طویل عرصے سے برفباری اور بارشوں کا انتظار تھا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ اس سے وادی کوئٹہ میں خشک سالی کا خاتمہ ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
کو ئٹہ کے علاوہ زیارت ،قلات ،پشین اورقلعہ عبداللہ میں بھی برفباری ہوئی۔
کوژک کی پہاڑی پر برفباری کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
اگرچہ برفباری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے لیکن شہری خشک سالی کے خاتمے پر خوش ہیں۔
کوئٹہ میں محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ اتوار تک جاری رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کراچی میں جل تھل اور کاروبارِ زندگی معطل
کراچی میں جمعے کی رات سے ہونے والی بارش کے باعث کاروبارِ زندگی متاثر ہوا ہے اور رات کو ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ فیصل پر طویل ٹریفک جام رہا۔
سنیچر کی صبح پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی کمی دیکھنے میں آئی جبکہ بیشتر کاروبار بند رہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر اب پانی کھڑا ہے اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوئی ہے۔

سندھ کے وزیرِ مراد عی شاہ اور کراچی کے میئر وسیم اختر نے کراچی کے مخلتف مقامات کا دورہ کیا اور بارش سے پیدا ہونے والی مشکلات کو دور کرنے کے احکامات دیے۔
اس موقے پر وزیرِ اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ ’بارش ہوئی ہے پانی تو کھڑا ہوگا، تاہم اب پانی کی نکاسی ہو رہی ہے۔‘’جہاں جہاں پانی کھڑا ہے اس کا نوٹس لیا ہے۔ حالات بہتر ہیں لیکن بہت بہتر بھی نہیں۔‘انھوں نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’چاہوں گا کہ لوگوں کے لیے باران رحمت باران زحمت نہ بنے۔‘








