’ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, راجہ وقاص علی
- عہدہ, بی بی سی اردو، ڈاٹ کام
پاکستان کے معروف نعت خواں جنید جمشید کی لاش کی شناخت کر لی گئی ہے تاہم ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ان کی ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ہی ان کی لاش وصول کریں گے۔
اسلام آباد میں پمز ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر الطاف حسین نے بتایا ہے کہ جنید جمشید کے اہلِ خانہ ان کی ڈی این اے رپورٹ آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
منگل کی رات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر الطاف حسین نے کہا کہ جنید جمشید کی ڈی این اے رپورٹ آنے میں ایک یا دو دن لگیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معروف گلو گار کے اہلِ خانہ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور انھوں نے خود کہا ہے کہ وہ جنید جمشید کی ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کریں گے۔
ڈاکٹر الطاف کے مطابق پی آئی اے کے گذشتہ ہفتے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سوار مسافروں لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
اس سے پہلے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن (ریٹائرڈ) مشتاق احمد نے سرکاری ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ جنید جمشید کی لاش کی شناخت ان کے چہرے کے ایکسرے اور دانتوں کی ہسٹری سے کر لی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ اس حادثے میں پاکستان کے نامور نعت خواں باون سالہ سالہ جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد اسلام آباد جا رہے تھے۔
پی آئی کی چترال سے اسلام آباد جانے والی پرواز حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں عملے کے پانچ ارکان سمیت تمام 47 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ماضی کے معروف پاپ گلوکار جنید جمشید نے میوزک بینڈ وائٹل سائنز سے شہرت حاصل کی تھی۔
وہ لاہور میں واقع یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل تھے۔
سنہ 1987 میں ان کے گیت 'دل دل پاکستان' نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا اور ان کے بینڈ کو پاکستانی 'پنک فلوائڈ' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔
جنید جمشید نے سنہ 2000 کے عشرے میں گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا اور مذہب کی تبلیغ اور حمد و نعت سے وابستہ ہوگئے تھے۔








