’پی آئی اے کا تمام اے ٹی آر طیارے عارضی طور پر گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ‘

- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں ہوابازی کے نگران ادارے سول ایوی ایشن اتهارٹی کی جانب سے شیک ڈاؤن ٹیسٹ کے احکامات کے بعد پی آئی اے کے طیاروں کے ٹیسٹ شروع کر دیے گئے ہیں۔
پی آئی اے کے مطابق یہ ٹیسٹ مکمل ہونے تک تمام اے ٹی آر طیاروں کی تمام پروازیں جزوی طور پر معطل رہیں گی اور تمام اے ٹی آر طیارے گراؤنڈ رہیں گے۔
پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایئرلائن نے اپنے طور پر طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ یہ ٹیسٹ مکمل کروا سکیں۔
یاد رہے کە پی آئی اے کا ایک اے ٹی آر 42 طیارہ حال ہی میں چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں طیارے کے عملے سمیت 47 افراد ہلاک ہو گئے تهے۔
اس کے بعد اتوار کی رات ملتان میں پی آئی اے کے ایک اور اے ٹی آر 72 طیارے کے انجن میں تکنیکی خرابی کے باعث پائلٹ نے پرواز کو واپس گیٹ پر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے اس مخصوص طیارے کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا تھگ۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پیر کی صبح فضائی کمپنی کو مطلع کیا گیا کہ سی اے اے تمام اے ٹی آر طیاروں کا ’شیک ڈاؤن ٹیسٹ‘ کرنا چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ اس اطلاع کے بعد قومی فضائی کمپنی نے تمام طیارے گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ ٹیسٹ کی تکمیل تک پرواز نہیں کریں گے۔
عارضی طور پر گراؤنڈ کرنے کے فیصلے سے پی آئی اے کی ملک کے چھوٹے ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں متاثر ہوں گی جن میں گوادر، تربت، پنجگور، موہنجودڑو، ژوب، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسمعیٰل خان، چترال اور گلگت کے لیے پروازیں شامل ہیں۔
پی آئی اے کا کہنا ہے کہ تمام طیاروں کی کلیئرنس کے بعد ہی پروازوں کا آپریشن شروع کیا جائے گا۔
پی آئی اے کے پاس اس وقت دس اے ٹی آر طیارے ہیں جن میں سے پانچ بڑے اے ٹی آر 72 اور پانچ چهوٹے اے ٹی آر 42 طیارے ہیں۔
پی آئی اے کے اے ٹی آر طیارے اس کے ’کمیوٹر‘ یعنی کم فاصلے کے مسافروں کے روٹس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جبکە پی آئی اے مسقط اور شارجہ کی چند پروازوں کے لیے بهی یہ طیارے استعمال کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFAROOQ NAEEM
اے ٹی آر اطالوی کمپنی ایلینیا ایروناٹیکا اور یورپی طیارە ساز ایئربس کا مشترکہ منصوبہ ہے جس کے طیارے دنیا بهر کی درجنوں فضائی کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔
اے ٹی آر دنیا کے دو انجنوں والے ٹربو پروپیلر طیاروں میں سے مقبول ترین طیارە ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مشکل اور کچے پکے رن ویز پر اتر سکتا ہے اور اڑان بهر سکتا ہے اور اسے لمبے رن وے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اسی وجہ سے پی آئی اے اسے استعمال کرتی ہے کیونکہ یہ چترال اور گلگت جیسے مشکل رن ویز اس کی پروازوں کے لیے نہایت موزوں ہیں۔








