قتل و غیرت: خواتین کا تشخص اور میڈیا میں ان کی کردار نگاری

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی نیوز اور انٹرٹینمنٹ میڈیا اگر خواتین کی منفی تصویر پیش کر رہا ہے تو اس کا سب سے زیادہ ذمہ دار کون ہے؟ میڈیا مالکان، صحافی اور اداکار یا لکھنے اور اسے پیش کرنے والے؟
اس سوال کا جواب بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز قتل و غیرت کے سلسلے میں منعقدہ مباحثے میں شامل طلبا و طالبات کو جب یہ ملا کہ 'آپ لوگ' تو ایک لمحے کو تو بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔
لیکن پھر اس مباحثے میں شامل ماہرین نے بتایا۔ 'جب آپ ایسا کوئی بھی پروگرام ٹی وی پر دیکھتے ہیں جس میں عورت کی منفی تصویر کشی کی جا رہی ہو اور آپ اس پر آواز نہیں اٹھاتے، اس ٹی وی کے ذمہ داروں تک اپنا احتجاج نہیں پہنچاتے اور خاموشی سے وہ پروگرام دیکھتے رہتے ہیں تو پھر خواتین کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے ذمہ دار سب سے زیادہ آپ ہیں۔'
کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے اس مباحثے کا موضوع 'کیا پاکستانی میڈیا خواتین کی منفی تصویر کشی کر رہا ہے؟' تھا اور ماہرین کے پینل میں نجی ٹی وی 'ہم ' کی سربراہ سلطانہ صدیقی اور غیر سرکاری تنظیم عکس کی سربراہ تسنیم احمر شامل تھیں جبکہ مصنف اور کالم نگار وسعت اللہ خان نے اس بحث کے میزبان کا کردار ادا کیا۔

وسعت اللہ خان نے کہا کہ کسی بھی ایشو پر محض بات کرنے سے وہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ مسائل اس وقت حل ہوں گے جب نوجوان ان کے حل کے بارے میں سوال اٹھانا اور سوچنا شروع کریں گے۔
سلطانہ صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرہ اور ٹیلی وژن دونوں ایک دوسرے کے عکاس ہیں اور جو کچھ معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہوتا ہے وہی ٹیلی وژن پر دکھایا جاتا ہے۔
تاہم تسنیم احمر نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا 'جو بِکتا ہے، وہ دِکھتا ہے'۔ یعنی ٹیلی وژن چینل چاہے وہ نیوز میڈیا ہو یا انٹرٹینمنٹ چینلز، صرف وہی چیز دکھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو ان کے لیے اشتہار لا سکیں۔
سلطانہ صدیقی نے کہا کہ ہمیشہ ایسے نہیں ہوتا۔ 'ہم نے کئی ڈرامے ایسے بنائے جو خواتین کے حقوق کے بارے میں تھے۔ ان میں خواتین کی وہ رسمی مظلوم تصویر نہیں دکھائی گئی تھی اس کے باوجود ان ڈراموں نے بھی اچھا بزنس کیا تو یہ ضروری نہیں ہے کہ عورت کو منفی رول میں دکھایا جائے تب ہی ڈرامہ بکے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

تسنیم احمر نے اس موقع پر اس بحث میں شریک کراچی یونیورسٹی کے طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان ٹیلی وژن پر اگر انھیں کوئی بات پسند نہیں آتی تو وہ اس پر احتجاج کریں۔ صرف اسی طرح یہ معاملہ درست ہو سکتا ہے۔
کراچی یونیورسٹی کی شعبہ ابلاغ عامہ کی سربراہ ڈاکٹر سیمی نغمانہ نے اس موقع پر کہا کہ آج کا نوجوان خاص طور پر ٹیلی وژن ڈرامے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتا تو جسے اس میں دلچسپی ہی نہیں ہے، وہ اس پر آواز کیوں اٹھائے گا؟
تسنیم احمر نے کہا کہ جب خواتین کے بارے میں رپورٹنگ کی بات آتی ہے تو نیوز میڈیا کا حال بھی اتنا ہی برا ہے۔
'ہم کئی سال سے کوشش کر رہے ہیں کہ صحافی جب خواتین کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہیں تو ان کے لیے مناسب الفاظ استعمال کیا کریں اور معاملے کو چٹ پٹا بنانے کے بجائے اس کی معنویت پر دھیان دیا کریں۔'
تسنیم کے مطابق بہت کم لیکن کچھ نہ کچھ صحافی ان کے خواتین کے بارے میں ضابطۂ اخلاق پر عمل کرتے ہیں۔
'ہمیں کئی سال لگے یہ بات طے کرنے میں کہ ہمیں ریپ کا شکار خواتین کے لیے کون سا مناسب لفظ استعمال کرنا چاہیے۔ اسی طرح کیا اس جرم کے شکار خواتین کی شناخت ظاہر کی جائے یا نہیں یہ معاملہ بھی ابھی تک طے نہیں ہوا۔'

ابلاغ عامہ کی طالبہ فرحین صغیر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نیوز میڈیا ریٹنگ کے چکر میں صرف ایک ہی طرح کی خبریں تواتر سے چلاتا چلا جاتا ہے۔
سائیکالوجی کی طالبہ عائلہ فیصل نے کہا کہ ہمارے ڈراموں کے موضوع گھسے پٹے ہی کیوں ہوتے ہیں۔ ایسے سماجی موضوعات پر ڈرامے کیوں نہیں بنائے جاتے جن کے ذریعے خواتین کے خلاف سماجی رویوں پر بات ہو اور ان کا حل تلاش کیا جائے۔
صحافت کے طالب علم سید عمر ندیم کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا اور نیوز چینلز ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کی خبریں اور ڈرامے پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ جرائم کیوں نہیں رکتے؟










