قتل و غیرت: پاکستانی ڈرامے عام عورت کی زندگی کے عکاس ہیں؟

- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں گذشتہ دس پندرہ برسوں میں کھلنے والے نجی تفریحی ٹی وی چینلز کی ضرورت کے پیشِ نظر اب ہر سال سینکڑوں ڈرامے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان ڈراموں کی کہانیاں عورتوں کے گرد گھومتی ہیں لیکن کیا یہ ڈرامے عام پاکستانی عورت کی زندگی اور اس کی مشکلات کی عکاسی کرتے ہیں؟
ڈرامہ نگاروں کا دعوی ہے کہ وہ معاشرے میں موجود کہانیوں سے متاثر ہو کر لکھتے ہیں لیکن کسی طبقے کی عورت خود کو ان کہانیوں سے قریب محسوس نہیں کرتی۔
کراچی کی رہائشی کہکشاں کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ وہ ایک پڑھی لکھی گھریلو خاتون ہیں۔ دن بھر کے کام کاج کے بعد، شام کے اوقات میں وہ اکثر ٹی وی ڈرامے شوق سے دیکھا کرتی ہیں لیکن ان کے خیال میں یہ ڈرامے عام عورت کی زندگی کی عکاسی نہیں کرتے۔
'ہماری عورت چاہے گھر میں ہو اُس پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔گھر، بچے، شوہر، اگر جوائنٹ فیملی ہے تو پوری فیملی۔۔وہ اُن سب کو لے کے چلتی ہے لیکن اس میں اگر ساس بہو کا کردار بھی دکھایا جاتا ہے تو ساس بہو بھی ویسی نہیں ہوتیں جیسی عام زندگی میں ہوتی ہیں لیکن ڈراموں میں شاید ریٹنگ کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔'

پاکستانی ڈراموں میں مختلف معاشرتی پہلوؤں کی غلط ترجمانی کا ذکرکرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'بعض ڈرامے ثقافت اور مذہب دونوں سے بہت دور ہوتے ہیں جس میں شادی، طلاق اور حلالہ کے طریقے بہت غلط دکھاتے ہیں جس سے بچوں کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں شادی کرنا، چھوڑنا اور واپس مل جانا بھی آسان ہے۔'
گھریلو خواتین کے ساتھ ساتھ ان ٹی وی ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ عورتوں کے کرداروں میں کوئی توازن نہیں ہوتا۔
فرح شاہ عموما ایسے کردار نبھاتی ہیں جنھیں منفی تصور کیا جاتا ہے لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ خود بزنس کرتی ہیں اور بہت دلیر ہیں لیکن ڈراموں میں یہی کردار منفی ہو جاتا ہے جو انھیں غیر حقیقی محسوس ہوتا ہے۔
'بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جو عورت برملا اپنے خیالات کا اظہارکرتی ہے، جو مضبوط ہے، خود کام کرتی ہے وہ منفی ہوجاتی ہے۔ مجھے بہت سے کردار آفر ہوتے ہیں جس میں میں کسی کی بات نہیں مانتی اور اپنے فیصلے خود کرتی ہوں، مضبوط عورت ہوں اور اگر میں نے'ناں' کہا ہے تو اس کا مطلب 'ناں' ہی ہے جو کہ اُن کے خیال میں منفی کردار ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ماضی کے پاکستانی ڈرامے حقیقت سے قدرے قریب ہوا کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان ڈراموں کی کہانیاں ایک فارمولے کے تحت بُنی ہوئی نظر آتی ہیں جن میں عورت عورت کی دشمن یا کمزور اور مجبور ہوتی ہے۔
ڈرامہ چینلز کے مالکان ایسی کہانیوں کی مقبولیت کا ذمہ دار دس پندرہ سالوں پہلے آنے والے انڈین ڈراموں کو ٹھہراتے ہیں۔
ایک مقبول نجی ٹی وی چینل کی سربراہ سیما طاہر خان نے بتایا 'آج کل کے ڈراموں کو انڈین ڈراموں سے آنے والے رجحان کی وجہ سے مقبولیت ملی جن میں عورتوں کو مصیبت زدہ، کمزور اور ستائی ہوئی دکھایا جاتا ہے۔ یہ رجحان اتنا مقبول ہوا کہ ٹی وی مالکان نے اسے اپنا لیا اور اس کی وجہ سے سنجیدہ کہانیاں لکھنے والےگھر بیٹھ گئے۔'
سوال یہ ہے کہ ماضی کے پاکستانی ٹی وی ڈرامے بھی مقبول تھے تو انڈین ڈراموں کے فارمولے کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

سیما طاہر خان نے اس کی توجیح پیش کرتے ہوئے کہا 'چینل کا مالک تو چاہے گا کہ وہی چیزدکھائیں جو عوام میں مقبول ہے۔ اُس وقت گھریلو عورتوں پر کہانیاں لکھنے کا ایک نیا رجحان سامنے آیا جس میں سسرال کی طرف سے تشدد بھی دکھایا جاتا، عورت کی بےحرمتی بھی ہوتی اور اسے بےزبان اور کمزور بھی دکھایا جاتا۔ چونکہ ہمارے ملک میں جہالت، جاگیردارنہ اور پدر شاہی نظام کی وجہ سے عورتوں پر تشدد ایک حقیقت ہے تو ایسے ڈرامے مقبول ہوئے اور عورتیں اُس صورتحال سے اپنے آپ کو قریب محسوس کرنے لگیں۔'
مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستانی میڈیا میں خواتین کے معاشرے میں کرداروں کی بھرپور عکاسی نہیں کی جا رہی اور اس بات سے ان ڈراموں میں کام کرنےوالے اداکار، چینل مالکان اور ناظرین خود بھی اتفاق کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں کسی ایک کڑی کوذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا البتہ تیزی سے پھیلتی ہوئی ہوئی اس صنعت سے وابستہ افراد پرامید ہیں کہ پاکستانی ڈرامے کسی بحران سےگزرے بغیر ایک بار پھر زبان ، کلام اور مزاح سمیت بامقصد اور بامعنی کہانیاں پیش کر سکیں گے۔










