اردوغان اسلام آباد میں، این ایس جی میں حمایت پر پاکستان کا اظہارِ تشکر

،تصویر کا ذریعہPML-N/Twitter
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے ترکی کی جانب سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کی بھارتی کوششوں پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یہ بات بدھ کے روز ایوان صدر میں ترک اور پاکستانی صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہی گئی ہے۔
بیان کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین اورترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اور خطے میں امن، لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے خاتمے ، افغانستان میں دیرپا امن کے لیے مشترکہ کوششوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفا ق کیا ہے جبکہ پاکستان نے نیوکلیئر سپلائیر گروپ کے معاملے میں بھر پور حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ بھارت نے اس بین الاقوامی گروپ کا رکن بننے کے لیے سفارتی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اور اسی سلسلے میں ہونے والے ایک اجلاس میں ترکی اور بعض دیگر ممالک نے بھارت کو رکنیت دینے کے بجائے اس معاملے پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنی اہلیہ اور صاحبزادی کے ہمراہ ہوائی اڈے پر ترک صدر اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔
اسلام آباد آمد کے بعد رجب طیب اردوغان کو ایوان صدر لے جایا گیا جہاں پاکستانی صدر نے اپنے ترک ہم منصب کا مرکزی دروازے پر استقبال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں رہنماوں نے ایوان صدر میں پہلے ون آن ون ملاقات کی اس کے بعد دونوں ملکوں کے وفود بھی اس میں شامل ہوگئے۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ میولٹ کاوس اولو، صدارتی ترجمان ابراہیم کالان، ترک سفیر صدیق باربر گرگن، پاکستان کےسیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی صدر نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ پاکستان اور ترکی کو دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدتی دفاعی تعاون کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینی چاہیے جس سے مہمان صدر نے اتفاق کیا۔
صدر ممنون حسین نے پاکستانی آبدوز کو اپ گریڈ کرنے پر ترکی کے تعاون اور پاکستان سے سپر مشتاق تربیتی طیاروں کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدررجب طیب اردوغان نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آنے والے دنوں میں دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہو گا اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہPML-N/Twitter
صدر مملکت ممنون نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان مظالم کی تحقیقات اقوام متحدہ کے تحت ہونی چاہیے۔
بیان کے مطابق پاکستانی صدر نے کہا کہ پاک ترک تجارت میں گذشتہ چند برسوں کے دوران کچھ کمی آئی ہے، جس میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔
ترک صدر نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے تجارت میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جلد ہی اس صورت ِ حال میں بہتری پیدا ہو گی۔
صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں توانائی اور انفراسٹرکچر کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انھوں نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی ترک سرمایہ کاری پر اطمینان کا بھی اظہار کیا۔
اس ملاقات کے بعد صدر مملکت نے ترک ہم منصب کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔
ترک صدر جمعرات کو پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ ایوان میں حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد ترک صدر لاہور روانہ ہو جائیں گے جہاں مشہور شاہی قلعے میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ان کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت دی جائے گی جس میں اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ ملکی سیاسی قیادت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
ترک صدر کے اسلام آباد پہنچنے سے ایک رات قبل منگل کو حکومت نے ترکی کی ایک نجی تنظیم کے زیراہتمام چلنے والے سکولوں کے اساتذہ کو تین روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کی جو ہدایت دی ہے۔
بعض مبصرین اس اقدام کو بھی صدر رجب طیب اردوغان کے غیر معمولی استقبال کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ ترک حکومت نے چند ہفتے قبل ہی پاکستانی حکومت سے درخواست کی تھی کہ ترکی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے تحت چلنے والے ان ترک سکولوں کا انتظامی کنٹرول اس تنظیم سے واپس لے لے ۔
ترک حکومت کا خیال ہے کہ ان سکولوں کو چلانے والی اس تنظیم کا تعلق امریکہ میں جلاوطن ترک رہنما فتح اللہ گولن سے ہے جنھیں ترک حکومت جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتی ہے۔
ترک صدر کی پاکستان آمد سے ایک روز قبل ان سکولوں میں کام کرنے والے چار سو کے قریب اساتذہ اور ان کے اہلخانہ کو ملک سے چلے جانے کی ہدایت بھی بعض سیاسی مبصرین کے مطابق ترک صدر کے استقبال کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔








