تحریک انصاف ترک صدر کے لیے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر قائم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترکی کے صدر بدھ کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے اور جمعرات کو پارلیمان کے بلائے گئے خصوصی مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔
منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ گذشتہ روز پیر کو اسلام آباد میں ترکی کے سفیر کی درخواست پر ان کی جماعت کے وفد نے ان سے ملاقات کی جس میں وفد سے مشترکہ اجلاس بائیکاٹ کے فیصلے پر غور کرنے کا کہا گیا۔
عمران خان کے مطابق آج منگل کو بائیکاٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلے پر قائم رہنے پر اتفاق ہو گیا۔
عمران خان نے بتایا کہ ترکی کے سفیر کی درخواست کو سنجیدگی سے لیا گیا لیکن بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہنے کی سب سے بڑی وجہ وزیراعظم نواز شریف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بائیکاٹ کے فیصلے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک شخص( نواز شریف) جو اس وقت ملک کا وزیراعظم ہے، اس پر بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں اور جس پر کرپشن کے اتنے بڑے کیس ہوں تو اسے بالکل ملک کا وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے اور انھیں سات ماہ پہلے ہی مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔
عمران خان نے کہا ہے کہ بائیکاٹ کی اس سے بھی بڑی وجہ دو نومبر کو تحریک انصاف کے اعلان کردہ احتجاجی دھرنے سے پہلے حکومتی رویہ ہے جس میں کارکنوں پر تشدد کیا گیا اور ایک صوبے کے وزیراعلیٰ پر شیلنگ کی گئی۔
' انھوں نے یہ جو کیا ہے اس میں ہمیں کسی صورت یہ قبول نہیں جس طرح سے انھوں نے ہمارے لوگوں کے ساتھ غیر جمہوری برتاؤ کیا، ان کو مارا جس میں خاص کر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا۔ ہم ترکی کے دعوت نامے کا احترام کرتے ہیں لیکن ملک کے ان حالات میں مشترکہ اجلاس میں جا کر ایسے وزیراعظم کی توثیق نہیں کر سکتے، جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور ہمارے کارکنوں پر تشدد کر کے قانون کو توڑا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خواجہ سعد رفیق کے مطابق' انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے اپنی عادت کے مطابق ناسمجھی، ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ'یہ منتخب پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہے کسی نے ذاتی دعوت نہیں دی ہے اور اگر عمران خان کو ذاتی دعوت اور منتخب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے فرق کے بارے میں معلوم نہیں تو وہ واپس جا کر فاسٹ بولنگ کی کوچنگ کرے کیونکہ سیاست سنجیدہ کام ہے نہ کہ محض ضد، انا اور الزام تراشیوں کا کام ہے۔'
انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جب سے سیاست میں آئے ہیں اس وقت سے یہ کھیل کھیل رہے ہیں اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ 2014 ان کے دھرنوں کی وجہ سے چین کے صدر پاکستان کا دورہ نہیں کر سکے تھے۔ اس کے علاوہ رواں برس کشمیر کے مسئلے پر بلائے گئے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کر کے عمران خان نے انڈین میڈیا کو پاکستان کا مذاق اڑانے کا موقع فراہم کیا۔







