پی ٹی آئی کو مقررہ جگہ پر احتجاج کرنے کا حکم

پاکستان، تحریک انصاف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو نومبر کو دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے سے متعلق تمام درخواستوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو مقرر کردہ جگہ تک محدود رکھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق صوبہ پنجاب میں حکام کا کہنا ہے کہ اس احتجاجی دھرنے میں شرکت کے خواہشمند تحریک انصاف کے 1900 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی عارف علوی اور عمران اسماعیل کو بنی گالا سے حراست میں لیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے دھرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے بعد جسٹس شوکت صدیقی نے پی ٹی آئی کے وکلا کو حکم دیا کہ وہ اپنا احتجاج صرف اسی مقام پر کر سکتے ہیں جس کی نشاندہی عدالت کی جانب سے کی گئی ہے۔

گذشتہ سماعت میں عدالت نے تحریک انصاف کو اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے قریب پریڈ گرؤانڈ میں جلسہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ احتجاج آئین کے تحت شہریوں کا حق ہے تاہم کوئی بھی عدالت شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

عدالت نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ دھرنے کے باعث مختلف راستوں میں حائل رکاوٹیں ختم کریں۔

تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی، دھرنا،
،تصویر کا کیپشنموٹر وے پر حضرو کے مقام پر موٹر وے کی دونوں اطراف کو کنٹینرز اور ریت کے ڈھیروں سے بند کر دیا گیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کارکنوں کے خلاف پولیس کے کریک ڈؤان کی مذمت کرتے ہوئے کارکنوں کی غیر قانونی گرفتاریوں پر سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بنی گالہ میں رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات چیت میں عمران خان نے کہا کہ کس قانون کے تحت کارکنوں کو پکڑا جا رہا ہے۔ انھوں نے اپنی کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ پولیس کا حصار توڑ کر اُن تک پہنچیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کارکنوں کے احتجاج کے جمہوری حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ جمہوریت کی حفاظت کرنا عدلیہ کا کام ہے اور حکومت عدلیہ کا ٹرائل کر رہی ہے۔

اسلام آباد پولیس نے پیر کو تحریکِ انصاف کے صوبائی وزیر علی امین گنڈاپور کے خلاف ناجائز اسلحہ اور منشیات رکھنے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔

پولیس نے اتوار کو بنی گالہ میں ان کی گاڑی سے سات کلاشنکوف، بلٹ پروف جیکٹ اور شراب کی بوتل برآمد کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔