سوشلستان: ’سب مودی کے ایجنٹ ہیں‘

کوئٹہ کڈیٹس

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکیڈیٹس کی میتیں جنازے کے لیے لیجائی جا رہی ہیں
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

سوشلستان میں پھر سے ہلچل ہے جہاں تحریک انصاف کے کارکن کہتے ہیں کہ 'میں انصافین ہوں مجھے گرفتار کرو' اور فی الحال کم از کم ٹوئٹر پر سوائے انصافین حضرات کے کسی دوسرے کی اس میں دلچسپی کم ہے۔

دوسری جانب پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایک بار پھر گہما گہمی ہے اور ریٹنگ، 24 گھنٹے ڈرامائی ہیڈ لائنز چیختے چنگھاڑتے نیوز اینکرز جیسے قیامت اب ٹوٹی کے تب۔

مگر سوشلستان میں اس بار بات کریں گے ایجنٹس اور ایجنڈے کی۔

'کیا سب مودی کے ایجنٹ ہیں؟'

گذشتہ دنوں کوئٹہ میں پھر دہشت گردی کا خوفناک واقعہ پیش آیا۔ مگر جب دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان مقابلہ جاری تھا پاکستانی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی اے کارکن اسے دو نومبر کے دھرنے کے خلاف سازش بنانے کے لیے تانے بانے ملانے میں مصروف تھے۔

مگر بات کارکنوں تک نہیں رکی اور وفاقی وزیرِدفاع خواجہ آصف بھی اسی دوڑ میں اُسی انداز میں شامل ہو گئے۔

حسن نیازی نے ٹویٹ کی کہ ’انڈیا نواز شریف کو بچانے کے لیے ایک بار پھر آ گیا۔ کوئٹہ را کے ایجنٹوں کے حملے کا نشانہ۔‘ #پاناما کرپش کے خلاف مارچ۔

جب حسن کی ٹویٹ پر تنقید کی گئی تو حسن کا جواب تھا ’افسوس کے ساتھ ہم نے رات دن سڑکوں پر اپنی قسمت بدلنے کے لیے دھکے کھائے ہیں۔ ہمیں درد کا احساس ہے۔ آرمی پبلک سکول، واہگہ سرحد پر حملہ، لائن آف کنٹرول کی فائرنگ، وکلا پر حملہ۔‘

یہ بات پہلی بار نہیں ہو رہی اور نہ ہی اس قسم کا اظہار عام کارکنوں تک محدود نہیں بلکہ اس قسم کی باتیں اعلیٰ رہنماؤں کی جانب سے کی گئیں۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دو روز قبل 26 اکتوبر کو کہا کہ ’یہ حیران کُن بات ہے کہ جب بھی ہم کچھ کرنا شروع کرتے ہیں ملک میں کوئی بڑا واقعہ ہو جاتا ہے۔‘

یہ بات عمران خان نے کوئٹہ میں پولیس کے تربیتی کالج پر حملے کے بعد کی اور اس سے قبل تحریکِ انصاف کے دوسرے رہنما بھی اس حوالے سے اسی قسم کے خدشات ظاہر کر چکے ہیں۔

مگر اس بار مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے 25 اکتوبر کو ٹویٹ کی کہ ’انڈیا لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر حملہ کرتا ہے۔ کوئٹہ اور پشاور میں افغانستان کی جانب سے حملے۔ عمران خان اسلام آباد پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ کیا یہ اتفاقی کوآرڈینیشن ہے؟‘

مگر تحریکِ انصاف کے ہی بہت سے اراکین نے سوشل میڈیا پر اس قسم کی سوچ اور جذبات سے نفرت کا اظہار بھی کیا جیسا کہ سعد احسن ’میں اس بات پر متفق ہوں کہ کرپشن بڑا مسئلہ ہے مگر اس تناظر میں نہیں۔ میرے خیال میں ایک ہمدردانہ بات کی توقع کی جا رہی تھی۔‘

حلیمہ خان نے لکھا ’ایسے لوگ پی ٹی آئی کی ترجمانی نہیں کرتے۔‘

ٹرینڈز جو بس ٹوئٹر تک ہی رہ گئے

رات گئے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف ٹرینڈز چلائے گئے جس کے جواب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹرینڈز بھی چلے۔

جہاں بڑی بڑی باتیں کی گئیں مگر حالت یہ ہے کہ اس وقت شیخ رشید پاکستان میں صفِ اول کا ٹرینڈ ہے جبکہ دنیا بھر میں ساتویں نمبر پر ٹرینڈ ہے اور یہ صورتحال صرف چھ گھنٹوں میں یہاں تک پہنچی۔

دوسری جانب راولپنڈی ٹوئٹر #RawalpindiRisesForKhan پر خان صاحب کے لیے اٹھ کھڑا ہونے کی کوشش میں ایک ٹرینڈ کی صورت میں کر رہا ہے مگر اس کی راہ میں بھی شیخ رشید اور کمیٹی چوک کا ٹرینڈ حائل ہے۔

اب اس پر میں مزید کیا لکھوں آج تو ساری کہانی ٹوئٹر کے ٹرینڈز نے کھول کر رکھ دی ہے۔ بات ٹرینڈز سے شروع ہوئی دیکھیں اب اس سے باہر کیسے اور کب نکلے گی۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے کہ مبشر علی زیدی کا جن کی سو لفظوں کی کہانیاں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کی جاتی ہیں۔ مبشر علی زیدی نے اس مختصر گفتگو اور ٹوئٹر کے دور میں سو لفظوں کی کہانی کے نام سے لکھنا شروع کیا جس نے اب اپنی ایک منفرد جگہ بنا لی ہے۔

اس ہفتے کی تصاویر

کڈیٹس کی میتیں مسافر ویگنوں کی چھتوں پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس کیڈیٹس کی میتیں مسافر ویگنوں کی چھتوں پر رکھ کر ان کے آبائی علاقوں کو بھجوائی جا رہی ہیں جبکہ اس کے ساتھ ایک دوسری تصویر بھی ٹرینڈ کرتی رہی جس میں مبینہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کا کھانا ہیلی کاپٹر کے ذریعے مری پہنچایا جا رہا تھا۔
عابدہ خاتون

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنلاہور کے ایک مزار پر پھل فروخت کرنے والی عابدہ خاتون جن کے چہرے کی جھریاں ایک داستان بیان کرتی ہے۔