’نیشنل ایکشن پلان سے شدت پسندی کے واقعات میں 75 فیصد کمی ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہPM House
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے چاروں صوبوں کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں شدت پسندی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے باعث شدت پسندی اور سنگین نوعیت کے واقعات میں 70 سے75 فیصد کمی آئی ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی کم ہوئے ہیں۔
صوبائی حکام کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی سربراہی میں منگل کو اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں آگاہ کیا گیا۔
اس جلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزارئے اعلیٰ سمیت ڈی جی ملٹری آپریشن اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے فورتھ شیڈول کے تحت 2000 سے زائد افراد کے بینک اکاونٹس منجمند کرنے کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فورتھ شیڈول کے تحت 8000 سے زائد افراد کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں جبکہ اس کے علاوہ جتنے اکاؤنٹس مجنمد کیے گئے ہیں اگر اُن میں سے کوئی رقم نکلوانے کے کوشش کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں میں امن و امان کی صورت حال کے علاوہ ہائی پروفائل مقدمات کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں اس پلان کے تحت شدت پسندوں کے خلاف کی گئی ٹارگٹیڈ کارروائیوں سے متعلق بھی بتایا گیا۔
وزرائے اعلیٰ نے اپنے علاقوں میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس ضمن میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے علمائے دین کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی شرکا کو آگاہ کیا۔
نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اجلاس کے بعد قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس بھی وزیر اعظم ہاوس میں ہی ہوگا اور اس اجلاس میں بھی چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ دیگر اعلی فوجی حکام بھی شرکت کریں گے۔







