پاکستان مغربی سرحدوں سے فوج مشرقی سرحد پر منتقل نہیں کرنا چاہتا: آئی ایس پی آر

باجوہ
    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بھمبھر

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ مغربی سرحدوں سے فوج مشرقی سرحد پر منتقل کی جائے۔

یہ بات پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پر آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بھمبھر اور تتہ پانی سیکٹر کے دورے پر کہی۔

انھوں نے کہا 'ہم مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ایک ایسے موقع پر جب یہ جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے، فوجی دستوں کی نقل و حرکت نقصان دہ ہوگی۔ مگر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ہر وہ قدم اٹھایا جائے گا جو پاکستان کی بقا و سلامتی کے لیے ناگزیر ہو گا۔'

انڈیا کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ دعوے 'من گھڑت، بے بنیاد، سفید جھوٹ اور غیرذمہ دارارنہ' ہیں۔

دورے کے دوران بھمبھر سیکٹر میں باغ سر کمانڈ پوسٹ سے پاکستانی فوج کی فارورڈ پوزیشنز اور لائن آف کنٹرول سمیت بھارتی پوسٹیں دکھائی گئیں ۔ دوسرے مرحلے میں بھارتی پوزیشنز سے محض 2300 گز کے فاصلے پر تتہ پانی لے جایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پر آر نے کہا کہ اس علاقے کی آبادی ایک لاکھ ہے اور جگہ جگہ فوج تعینات ہے، کسی سرجیکل سٹرائیک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

'اگر سرجیکل سٹرائیک میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے تو وہ کہاں ہے۔ ایک لاکھ آبادی کے اس علاقے میں کسی کو خبر نہیں ہوئی؟'

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری، لائن آف کنٹرول اور سرحد پرمسلسل جارحیت کی جا رہی ہے۔

لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ جگہ جگہ فوجی دستوں اور تمام ویپنری سسٹم کی موجودگی میں نہ تو لائن آف کنٹرول پار کی جا سکتی ہے، نہ ہیلی کاپٹر آ سکتا ہے اور نہ ہی پیرا ٹروپرز۔

'بھارت نے پہلے دعویٰ کیا کہ فوجی دستوں نے سرحد پار کی، پھرکہا پیرا ٹروپرز اترے، پھر کہا چند گھنٹوں میں کارروائی مکمل کر کے واپس چلے گئے۔ یہاں نہ تو خاموشی سے ہیلی کاپٹر آ سکتے ہیں، نہ پیرا ٹروپرز اتر سکتے ہیں۔ بھارت بتائے اس کے پیرا ٹروپر نیچے آئے توواپس کیسے گئے؟ لانچنگ پیڈ تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے والے بتائیں لاشیں کہاں گئیں؟'

انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں ہے، جنگی جنون کو بھارت میں ہوا دی جا رہی ہے جس کا ایک مقصد کشمیر میں بھارتی جارحیت پر پردہ ڈالنا ہے۔

بھمبر

'پاکستان ایک پرامن ملک ہے، ہم جنگ نہیں چاہتے۔ جنگ کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔ مگر ہم واضح کردیں کہ بھارت جیسا کرے گا ویسا ہی جواب پائے گا۔'

بھارتی فوجی کے سرحد پار کرنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ غلطی سے سرحد پار کرنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، جن کی واپسی کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کے ڈی جی ایم او نے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا ہے 'ہمیں آج نچلے درجے کے کسی شخص کے سرحد پار کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، اس معاملے پر مزید تحقیق کر رہے ہیں۔'