کشمیر کشیدگی، جنازہ، جنگی تیاری اور تعلیم

انڈیا کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کرنے کے دعوے کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور کرفیو کے باوجود احتجاج اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر مظفر احمد پنڈت کا جنازہ لے جایا جا رہا ہے۔ مظفر پچھلے ماہ مظاہروں کے دورن زخمی ہوئے تھے اور ہفتے کو وہ چل بسے۔
کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کرنے کے دعوے کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرحدی علاقوں کے قریب رہنے والے 20 ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ ایک خاندان اخنور سیکٹر میں ایک مندر میں پناہ لیے ہوئے ہے۔
کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈین فوجی اخنور سیکٹر میں ٹینک کے اوپر کھڑا ہے۔
امرتسر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامرتسر سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر انڈین بارڈر سکیورٹی فورس سرحد پر گشت کر رہی ہے۔
کشمیر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں سڑک کی مرمت کا کام کیا جا رہا ہے۔
کشمیر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم کے علاقے اٹھ مقام میں ایک شخص دیوار کے ساتھ سیمنٹ کی بوریاں رکھ کر مکان کو فائرنگ سے محفوظ بنا رہا ہے۔
کشمیر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم کے علاقے اٹھ مقام میں بچے سکول میں پڑھائی کرتے ہوئے۔