’شدت پسندی غیر منصفانہ معاشرے کی عکاسی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی لندن سے طیارہ سازش مقدمے کے سلسلے میں کچھ نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد دہائیوں پہلے وہاں آنے والے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست بھی ہیں تو یہ ان لڑکوں کا ذاتی فعل تھا اور دوسرے یہ کہ ان کے شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کی ذمہ دار ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے اس راہ پر چلنے کی وجہ مذہب میں نہیں سیاست میں تلاش کرنی چاہیے۔ الفورڈ میں ایٹن روڈ اقلیتی مرکز کے سربراہ بشیر چودھری اور والتھم سٹؤ کے رہائشی پنجابی زبان کے معروف شاعر مظہر ترمذی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلی نسل کو ناانصافی کا احساس تھا جو ایک مختلف صورت میں دوسری نسل تک پہنچا ہے۔ مظہر ترمذی نے کہا مسئلے کی جڑیں نسلی تعصب کے رجحان میں ملیں گی۔
مظہر ترمذی کی صابزادی نیلم نے جو برطانیہ میں ہی پیدا ہوئیں اور طالب علم ہیں کہا کہ اہم سوال یہ ہے کہ ان کے والدین کی نسل بھی زیادتی کی شکایت کرتی تھی اور موجودہ دور میں بدلے ہوئے حالات میں نوجوان بھی اپنے آپ کو پوری طرح معاشرے کا حصہ نہیں سمجھتے۔
مسلمان نوجوانوں میں شدت پسندی کے رجحان کے بارے میں بشیر چودھری نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ’جب بھی زیادتی ہو گی لوگ رد عمل کا اظہار کریں گے کچھ خودکش حملوں اور حتیٰ کہ اپنے آپ کو آگ لگانے کی حد تک جائیں گے جس کی حمایت نہیں کی جا سکتی‘۔ لیکن انہوں نے کہا کہ کسی انسان کی سوچ کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کسی کا برطانوی مسلمان ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب انہیں سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے ذرائع ابلاغ میں کیا رد عمل ہوتا ہے اور پاکستانیوں کے بارے میں عمومی رائے کیا پیدا ہو گی۔
مظہر ترمذی اور نیلم نے بھی ذرائع ابلاغ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیلم کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو کثیر الثقافتی معاشرے کی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف اخبارات میں ایک نارمل برطانوی کا خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے جو فِش اینڈ چپس کھاتا ہے اور فٹبال کا شوقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں بہت سے مختلف لوگ رہتے ہوں ’برٹشنس‘ کی بات سادگی پر مبنی اور غیر حقیقی ہے۔ بشیر چودھری نے کہا کہ کمیونٹی کچھ نہیں کر سکتی، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور رہائش کے مسائل پر توجہ دے اور ان کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیئے وسائل مختص کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان جرائم اور منشیات کی دنیا میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور بنگلہ نوجوانوں میں بیروزگاری اور تعلیم کا مسئلہ بہت سنگین ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مظہر ترمذی نے کہا کہ اسی طرح کے بیروزگار اور کم پڑھے لکھے نوجوان ہوتے ہیں جو شدت پسند تنظیموں کے آلہ کار بنتے ہیں۔
نیلم نے کہا کہ لندن میں مختلف قوموں کے لوگ الگ علاقوں میں جمع ہیں جس سے انضمام کی فضا پیدا نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ والتھم سٹؤ میں پاکستانی ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں، ہر دوسری یا تیسری گلی میں مسجد ہے اور بچوں کو اسلامی سکول میں بھیجنے کا رجحان ہے۔ ’معاشرے میں گھل مِل نہ سکنے کے لیئے ہمارے والدین بھی ذمہ دار ہیں‘۔ بشیر چودھری اور مظہر ترمذی نے کہا کہ انہوں نے برطانیہ سخت نسلی تعصب کا سامنا کیا ہے۔ مظہر ترمذی کا کہنا تھا کہ جب وہ یہاں آئے تھے ایشائی لوگوں پر تھوکا جاتا تھا، گالیاں دی جاتی تھیں گاڑیوں پر انڈے مارے جاتے تھے اور اس طرح کے واقعات روز مرّہ کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکی‘ لفظ گالی بن گیا۔ مظہر ترمذی نے کہا کہ نوجوانوں کے لیئے صرف شناخت ہی مسئلہ نہیں ہے، وہ تو ہمیشہ رہے گا۔ ’انہیں سیاسی نا انصافی کا شدید احساس ہے‘۔ | اسی بارے میں بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟12 August, 2006 | صفحۂ اول والتھم سٹؤ کے ایک ہزار چہرے12 August, 2006 | صفحۂ اول ’لندن سازش میں جیشِ محمد ملوث‘12 August, 2006 | آس پاس برطانیہ، امریکہ میں تفتیش جاری 12 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||