BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 August, 2006, 22:01 GMT 03:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شدت پسندی غیر منصفانہ معاشرے کی عکاسی‘

بشیر چودھری
بشیر چودھری انیس سو پینسٹھ میں لندن آئے تھے اور انیس سو اٹھاسی سے فلاحی مرکز چلا رہے ہیں
مشرقی لندن سے طیارہ سازش مقدمے کے سلسلے میں کچھ نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد دہائیوں پہلے وہاں آنے والے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست بھی ہیں تو یہ ان لڑکوں کا ذاتی فعل تھا اور دوسرے یہ کہ ان کے شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کی ذمہ دار ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے اس راہ پر چلنے کی وجہ مذہب میں نہیں سیاست میں تلاش کرنی چاہیے۔


الفورڈ میں ایٹن روڈ اقلیتی مرکز کے سربراہ بشیر چودھری اور والتھم سٹؤ کے رہائشی پنجابی زبان کے معروف شاعر مظہر ترمذی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلی نسل کو ناانصافی کا احساس تھا جو ایک مختلف صورت میں دوسری نسل تک پہنچا ہے۔ مظہر ترمذی نے کہا مسئلے کی جڑیں نسلی تعصب کے رجحان میں ملیں گی۔

ذرائع ابلاغ
 یہاں ذرائع ابلاغ ایسے لوگوں کو زیادہ وقت اور جگہ دیتے رہے ہیں جو منفی خیالات کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی مثال عمر بقری ہے جنہیں اپنی تشہیر سے نوجوانوں کو متاثر کرنے کا موقع ملا
بشیر چودھری

مظہر ترمذی کی صابزادی نیلم نے جو برطانیہ میں ہی پیدا ہوئیں اور طالب علم ہیں کہا کہ اہم سوال یہ ہے کہ ان کے والدین کی نسل بھی زیادتی کی شکایت کرتی تھی اور موجودہ دور میں بدلے ہوئے حالات میں نوجوان بھی اپنے آپ کو پوری طرح معاشرے کا حصہ نہیں سمجھتے۔

اکتیس سال پہلے لندن آنے والے مظہر ترمذی اور ان کی بیٹی نیلم
تینوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کا نوجوانوں پر گہرا اثر ہے اور ان کے خیال میں لبنان اور عراق میں زیادتی ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اقوام متحدہ کی کارکردگی سے متاثر نہیں اور محسوس کرتےہیں کہ مسائل کے سیاسی حل کے راستے بند ہیں۔

مسلمان نوجوانوں میں شدت پسندی کے رجحان کے بارے میں بشیر چودھری نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ’جب بھی زیادتی ہو گی لوگ رد عمل کا اظہار کریں گے کچھ خودکش حملوں اور حتیٰ کہ اپنے آپ کو آگ لگانے کی حد تک جائیں گے جس کی حمایت نہیں کی جا سکتی‘۔ لیکن انہوں نے کہا کہ کسی انسان کی سوچ کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کسی کا برطانوی مسلمان ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

نارمل برطانوی
 ایک طرف تو کثیر الثقافتی معاشرے کی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف اخبارات میں ایک نارمل برطانوی کا خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے جو فِش اینڈ چپس کھاتا ہے اور فٹبال کا شوقین ہے
نوجوان برطانوی مسلمان نیلم
انہوں نے کہا کہ گائے فاکس جنہوں برطانوی پارلیمان کو بارود سے اڑانے کی سازش کی تھی ایک انگریز عیسائی تھے اور آئی آر اے لندن میں حملے کرتی رہی ہے، اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ ’کچھ لوگوں جب حد سے زیادہ مایوس ہوں تو انتہا پسندی کی طرف بڑھ جاتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاشرے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو سب کی نمائندگی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اب انہیں سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے ذرائع ابلاغ میں کیا رد عمل ہوتا ہے اور پاکستانیوں کے بارے میں عمومی رائے کیا پیدا ہو گی۔

شناخت
نوجوانوں کے لیئے صرف شناخت ہی مسئلہ نہیں ہے، وہ ہمیشہ رہے گا، بلکہ انہیں سیاسی نا انصافی کا شدید احساس ہے
شاعر مظہر ترمذی
بشیر چودھری نے کہا کہ ماضی میں بھی یہاں ذرائع ابلاغ ایسے لوگوں کو زیادہ وقت اور جگہ دیتے رہے ہیں جو منفی خیالات کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی مثال عمر بکری ہے۔ ’ایسے لوگوں کو نظر انداز کرنے کی بجائے اخبار پورا پورا صفحہ ان کے نام کر دیتے ہیں اور مایوس نوجوان ان سے متاثر ہوتے ہیں‘۔

مظہر ترمذی اور نیلم نے بھی ذرائع ابلاغ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیلم کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو کثیر الثقافتی معاشرے کی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف اخبارات میں ایک نارمل برطانوی کا خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے جو فِش اینڈ چپس کھاتا ہے اور فٹبال کا شوقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں بہت سے مختلف لوگ رہتے ہوں ’برٹشنس‘ کی بات سادگی پر مبنی اور غیر حقیقی ہے۔

بشیر چودھری نے کہا کہ کمیونٹی کچھ نہیں کر سکتی، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور رہائش کے مسائل پر توجہ دے اور ان کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیئے وسائل مختص کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان جرائم اور منشیات کی دنیا میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور بنگلہ نوجوانوں میں بیروزگاری اور تعلیم کا مسئلہ بہت سنگین ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔

مظہر ترمذی نے کہا کہ اسی طرح کے بیروزگار اور کم پڑھے لکھے نوجوان ہوتے ہیں جو شدت پسند تنظیموں کے آلہ کار بنتے ہیں۔

گھُل مِل کر رہنا
 والتھم سٹؤ میں پاکستانی ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں، ہر دوسری یا تیسری گلی میں مسجد ہے اور بچوں کو اسلامی سکول میں بھیجنے کا رجحان ہے۔ معاشرے میں گھل مِل نہ سکنے کے لیئے ہمارے والدین بھی ذمہ دار ہیں
نیلم
نیلم نے کہا کہ پہلے مساجد نہیں تھیں اور اب مساجد اور مسلم سکول تو ہیں لیکن اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلم سکول جانےوالے دوسروں سے رابطے میں نہیں آتے اور مساجد میں عجیب و غریب نظریات کے لوگ نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساجد پر زیادہ کنٹرول کی ضرورت ہے۔

نیلم نے کہا کہ لندن میں مختلف قوموں کے لوگ الگ علاقوں میں جمع ہیں جس سے انضمام کی فضا پیدا نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ والتھم سٹؤ میں پاکستانی ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں، ہر دوسری یا تیسری گلی میں مسجد ہے اور بچوں کو اسلامی سکول میں بھیجنے کا رجحان ہے۔ ’معاشرے میں گھل مِل نہ سکنے کے لیئے ہمارے والدین بھی ذمہ دار ہیں‘۔

بشیر چودھری اور مظہر ترمذی نے کہا کہ انہوں نے برطانیہ سخت نسلی تعصب کا سامنا کیا ہے۔ مظہر ترمذی کا کہنا تھا کہ جب وہ یہاں آئے تھے ایشائی لوگوں پر تھوکا جاتا تھا، گالیاں دی جاتی تھیں گاڑیوں پر انڈے مارے جاتے تھے اور اس طرح کے واقعات روز مرّہ کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکی‘ لفظ گالی بن گیا۔

مظہر ترمذی نے کہا کہ نوجوانوں کے لیئے صرف شناخت ہی مسئلہ نہیں ہے، وہ تو ہمیشہ رہے گا۔ ’انہیں سیاسی نا انصافی کا شدید احساس ہے‘۔

اسی بارے میں
لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟
12 August, 2006 | صفحۂ اول
والتھم سٹؤ کے ایک ہزار چہرے
12 August, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد